اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےکہا ہے کہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات نہیں، دہرا معیار نہیں ہونا چاہئے، معاہدے کو سبوتاژ کرنے والے بہت ہیں، ہم اس معاہدے کو خراب کرنے والوں کے سامنے آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہونگے، پاکستان پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کی امن کوششیں نہ ہوتی تو ہم آج یہاں نہ ہوتے، دونوں ممالک یکجان دو قالب ہیں، منزل ایک ہی ہے، ایران میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے منگل کو یہاں دو طرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں مفاہمتی یادداشت پر اظہار تشکر کیلئے ایرانی صدرمسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اعلی سطح وفد کے ہمراہ جب اسلام آباد پہنچے تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نےانکا نورخان ایئر بیس پر شاندار استقبال کیا ، انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے بھی انہیں سلامی پیش کی۔بعدازاں صد رمسعود پزشکیان نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور پاک ایران تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، اس موقع فیلڈ مارشل نے خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور تعمیری سفارتکاری کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ،صدر زرداری نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے خوشی و غم میں ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا مظہر ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نےمشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کریگی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی جبکہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے بہترین کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے،چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کیلئے آگے بڑھنا ہے، خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ وزیر اعظم نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بطور ثالث پاکستان نے امن عمل کیلئے خلوص نیت سے کاوشیں کیں۔ برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات بھی بہت اہمیت کے حامل رہے۔ وزیر اعظم نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی دور اندیش قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کے دوران ایران کے عوام نے مثالی جرأت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔