تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) پاسدارانِ انقلاب پر پابندی کے خلاف ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے شدیداحتجاج ریکارڈکرایا ہے جبکہ امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا ہے‘بدھ کو رات گئے بندرعباس ‘ چاہ بہار اوراہوازمیں بمباری کی اطلاع ملی ہے ‘ تہران نے جوابی کارروائیوں میں بحرین ‘ کویت اوراردن میں امریکی تنصیبات جبکہ عراقی شہر اربیل میں ہوائی اڈے ‘ایئربیس ‘امریکی قونصل خانے اور فوجی اڈے کو نشانہ بنایاہے ‘ فارس نیوز کے مطابق تہران نے بندرعباس میں امریکی لوکاس ڈرون مار گرایا ہے‘ جنوبی ایران پر حالیہ حملوں میں 7فوجیوں سمیت 42افراد شہید اور 300سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ صدرٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو اگلے ہفتے حملوں کا دائرہ کار وسیع کر کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا‘اگلا ہفتہ ان کیلئے واقعی بہت برا ثابت ہونے والا ہے‘دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس کی تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے ملک کے دفاع پر مرکوز ہے۔ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکا نے دوبارہ حملے کرکے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ معاہدہ اب عملاً ختم ہو چکا ہے۔بحری ناکہ بندی بات چیت پر مجبور نہیں کرسکتی ‘فوجی دباؤسے مذاکرات پر آمادہ ہوں گے نہ ہی ہرمز پر ہمارا مؤقف بدلے گا‘ پاسداران انقلاب نے ہرمز کے بعد خطے کے دیگر اہم بحری تجارتی راستوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور کہاہے کہ امریکی جارحیت ختم ہونے تک آبی گزرگاہ بندرہے گی۔