کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئندہ سال جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والا ون ڈے ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر مشتمل ہوگا، اس میں گروپ مرحلے سے قبل سپر سیریز راؤنڈ اور نیا ’’سپر 7‘‘ مرحلہ بھی شامل ہوگا۔ آئی سی سی نے ایڈنبرا میں سالانہ کانفرنس کے بعد بدھ کو اس نئے ڈھانچے کا اعلان کیا۔ 50 اوورز اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹس میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ 14ٹیموں پر مشتمل مینز ورلڈ کپ میں 3 مرحلوں پر مشتمل نیا فارمیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ورلڈ کپ کے آغاز میں 12 ویں، 13 ویں اور 14 ویں نمبر کی ٹیموں کے درمیان ’سپر سیریز‘ مرحلہ کھیلا جائے گا۔ ان میں سے ایک ٹیم گروپ مرحلے میں جگہ بنائے گی اور یوں دو گروپس میں تقسیم 12 ٹیموں کا حصہ بن جائے گی۔ اس کے بعد ہر گروپ کی سرفہرست تین ٹیمیں اور دونوں گروپس میں اگلی بہترین پوزیشن والی ٹیم سپر 7 مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی ۔ گروپ راؤنڈ میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی ۔ سپر 7 مرحلے میں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی اور ٹاپ 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی۔ علاوہ ازیں 20 ٹیموں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سپر 10 مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں چار ٹیموں کے 5 گروپس ہوں گے، 2، 2 یعنی 10 ٹیمیں سپر 10 مرحلے میں جائینگی ۔ دونوں گروپس کی سرفہرست ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی۔ دوسری اور تیسری پوزیشن والی ٹیموں کے درمیان ایلیمینیٹر ہونگے، فاتح سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔ آئی سی سی نے ایسوسی ایٹ ممالک کیلئے 16 ٹیموں پر مشتمل عالمی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ اور 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے نئے کوالیفکیشن نظام کی بھی منظوری دی ہے۔