• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی ایم اے کا نشتر ہسپتال میں جان بچانے والی ادویات کی قلت پرتشویش کا اظہار

ملتان(سٹاف رپورٹر) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے نشتر ہسپتال میں ادویات کی قلت، نشتر 2 میں فیکلٹی کی کمی، ڈاکٹرز ہاسٹل کی خستہ حالی اور آن لائن نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشنکی کابینہ و ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نشتر ہسپتال میں ادویات، بالخصوص جان بچانے والی ادویات اور انجکشنز کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس صورتحال کے باعث مریضوں کے علاج میں سنگین مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق ڈاکٹر ایم ایس کی تحریری اجازت کے بغیر مارکیٹ سے خریدی گئی دوا یا انجکشن مریض کو نہیں لگا سکتا، جبکہ باہر سے ادویات تجویز کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔ اس صورتحال میں جب ہسپتال میں مطلوبہ ادویات دستیاب نہیں ہوتیں تو مریض اور ان کے لواحقین علاج میں تاخیر پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں سے الجھ پڑتے ہیں۔پی ایم اے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر سرکاری ہسپتالوں میں تمام ضروری ادویات اور انجکشنز کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے ،اجلاس میں ڈاکٹرز ہاسٹل کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ہاسٹل مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ شرکاء نے کہا کہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کی اولین ذمہ داری مریض کا فوری معائنہ اور علاج ہے، تاہم اب اسی ڈاکٹر کو آن لائن سسٹم میں ادویات اور دیگر معلومات بھی درج کرنا پڑتی ہیں، جس سے مریضوں کے معائنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ اجلاس میں دو الگ الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔ 
ملتان سے مزید