13 اگست کو دنیا بَھر میں انسانی اعضاء عطیہ کرنے کا عالمی دن مناتے ہوئے اقوامِ عالم کو رضاکارانہ اعضاء عطیہ کرنے کی جانب مائل کیاجاتا ہے اور ایسے وقت میں پاکستان میں پتّوکی کے ایک رہائشی نوجوان کا قصّہ میڈیا میں جگہ پا رہا ہے، جس کا گُردہ راول پنڈی میں دھوکا دہی سے نکال کر فروخت کردیا گیا۔
پاکستان میں گُردوں کی غیرقانونی پیوند کاری کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، گاہےبہ گاہے اِس نوعیت کا کوئی نہ کوئی کیس ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوجاتا ہے۔ یہ اور اِس جیسی دیگر مختلف خبریں پاکستان میں غیرقانونی پیوندکاری سے متعلق صُورتِ حال کی عکّاسی کرتی ہیں۔
اعضاء عطیہ کرنے سے کیا مُراد ہے؟:۔انسانی اعضاء عطیہ کرنا یا آرگن ڈونیشن ایک ایسا عمل ہے، جس میں کوئی شخص اپنے اعضائے جسمانی، کسی دوسرے ضرورت مند مریض کو فراہم کرتا ہے، جو اُس کی جان بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اعضاء کا عطیہ دو طرح ممکن ہے۔ اوّل، کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک گُردے اور جگر کے کچھ حصّےعطیہ کرسکتا ہے، دوم، بعد ازمرگ عطیہ کیے جانے والے اعضاء میں دل، گُردے، جگر، پھیھپڑے، چھوٹی آنت، لبلبہ اور مختلف ٹشوز جیسے آنکھوں کے پردے یعنی قرنیہ، جِلد، ہڈیاں، دل کے والوز، نسیں اور پٹّھے شامل ہیں۔ کوئی شخص اپنے اعضاء عطیہ کرکےآٹھ افراد کوزندگی کا تحفہ دے سکتا ہے اور یہ تحفہ نہ صرف اُن کی جان بچاتا ہے، بلکہ تقریباً 75 مریضوں کا معیارِ زندگی بہتر کرسکتا ہے۔ یعنی اپنے اِس عمل سےگُل ہوتے چراغ، اُمید کی نئی شمعیں جلاسکتے ہیں۔
پس منظر :۔اعضاء کی پیوند کاری کا طریقۂ علاج نسبتاً نیا ہے۔ 1954ء میں امریکا میں گُردے کی پہلی کام یاب پیوند کاری کی گئی تھی۔ اُمید کی جاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اِس کی قبولیت میں اضافہ ہوگا۔ دنیا بَھر میں اعضاء عطیہ کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے پر بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں، جوکہ مذہبی، ثقافتی، اخلاقی، نفسیاتی اور طبّی نوعیت کے ہیں۔ غریب اقوام میں اقتصادی پہلو بھی ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مذہبی تناظر:۔ مذہبی لحاظ سےدیکھیں، تو اسلامی نقطۂ نظر سے ابھی اِس سمت میں کافی کام ہونا باقی ہے کہ کچھ علمائے کرام انسانی اعضاء کے عطیے کو مختلف شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں، تو کچھ کے نزدیک یہ عمل ناجائز ہے۔ عیسائیت، یہودیت اور ہندومت میں عمومی طور پر اِس عمل کی حمایت کاعُنصر نمایاں ہے۔
عیسائیت میں اِسے محبّت، فیاضی اور خدمت سے منسوب کیا جاتا ہے، تو یہودیت میں یہ ’’پیکواچ نیفیش‘‘ یعنی جان بچانے کےسب سے اہم اصول کے تحت ترجیح بن سکتا ہے اور ہندو مت میں ’’دان‘‘ یعنی بےغرضی سے دینا اور’’سیوا‘‘ یعنی بےلوثی سے خدمت کے زمرے میں اسے’’مثبت کرما‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
سماجی و اخلاقی رجحانات :۔دنیا بَھر میں اعضاء عطیہ کرنے سے متعلق بعض مغالطوں کی موجودگی، مؤثر آگاہی کے فقدان، تعلیم کی کمی، خاندانی دباؤ، معاشرتی اقدار اور عملی نمونوں کی کمی کے ساتھ صحتِ عامّہ کے نظام کی غیر تسلّی بخش صُورتِ حال، طبّی عملے پرعدم اعتماد اور حق دار مریضوں کی عادلانہ طریقے پر عطیہ شدہ اعضاء تک رسائی کے ضمن میں شکوک وشبہات اعضاء عطیہ نہ کرنے کی بڑی وجوہ ہیں۔ اخلاقی طور پر دیکھیں، تو اعضاء عطیہ کرنے کی صُورت میں ڈونر اور اُس کے خاندان کی کسی دباؤ، جبر یا لالچ کے بغیر آزادانہ رضامندی اہم ہے، جب کہ زندہ ڈونر کی صحت اور حفاظت اوّلین ترجیح ہے۔
طبّی پہلو:۔طبّی پہلوکاجائزہ لیں، توآرگن ٹرانس پلانٹیشن ایک پیچیدہ کام ہے، بالخصوص اگرعطیہ دہندہ سے بعد ازمرگ اعضاء وصول کیے جارہے ہوں، کیوں کہ طبّی عملے کے پاس اعضاء کو مناسب طور پر استعمال کرنے کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جتنے لوگ اعضاء عطیہ کرنے کی وصیّت کرتے ہیں، اُن میں سے بہت کم کے اعضاء پیوند کاری کے لیے حاصل ہو پاتے ہیں۔ اکثر اسپتالوں میں ایسا انفرااسٹرکچر، تربیت یافتہ عملہ، مناسب سہولتیں اور مہارت موجود نہیں ہوتی، جو اعضاء کے عطیے کو بروقت وصول اور منتقل کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔
نفسیاتی و جذباتی عوامل:۔اِس فیصلے کے پیچھےگہرے نفسیاتی اور جذباتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ دوسروں کی تکلیف کا احساس ہم دردی اور کسی کی زندگی بچانے کا جذبہ ایثار کو اُبھارتا ہے۔ یہ عظیم اخلاقی فرض انسان کی علامتی بقا کی خواہش کی، یعنی اُس کی موت کے بعد بھی اُس کا کوئی حصّہ زندہ رہے یا کسی کے کام آئے، تسکین کرتا ہے۔
یہ جرأت مند انسانوں کو معاشرے کا حصّہ ہوتے ہوئے معاشرتی ذمّےداریاں پوری کرنےکا احساس دِلاتا ہے۔ اِس سلسلے میں ذاتی تجربہ ایک بہت بڑا محرّک ہے۔ اگرکسی نےاپنے قریب کسی شخص کواعضاء کا ضرورت مند، طلب گاردیکھا ہو یا کسی کی جان بچتے دیکھی ہو، تو اُس میں عطیہ کرنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے جسم کے ساتھ جذباتی طور پرجُڑاہوتا ہے اور جسمانی سالمیت کے نامکمل ہونے کا خوف اور ہچکچاہٹ اعضاء عطیہ کرنے میں ایک بڑی نفسیاتی رکاوٹ ہے۔
عالمی منظر نامہ:۔ اِس وقت دنیا کے103 ممالک میں پیوند کاری کے آپریشن ہو رہے ہیں، جن میں گُردوں کی پیوند کاری کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد بالترتیب جگر اور دل کے ٹرانس پلانٹ کا نمبر آتا ہے۔ ڈبلیو ایچ اواور اسپین کی تنظیم ( ONT ) کے مشترکہ ادارے گلوبل آبزرویٹری اِن ڈونیشن اینڈ ٹرانس پلانٹیشن (GODT) کے 2025 ء کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق، دنیا بَھر میں173,700 سے زیادہ ٹھوس اعضاء کے ٹرانس پلانٹ آپریشن کام یابی سے انجام پائے۔ جن میں سے49000 امریکا،6300 اسپین اور6148 فرانس میں ہوئے، یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں دو فی صد زیادہ ہے۔ اِس ضمن میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تعداد عالمی ضرورت کا صرف 10 فی صد پورا کرتی ہے۔
انٹرنیشنل رجسٹری اِن آرگن ڈونیشن اینڈ ٹرانس پلانٹ جیسے مستند ادارے کی 2025 ء میں57 ممالک سے حاصل شدہ ابتدائی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ زندہ عطیہ دہندگان میں تُرکیہ اور جنوبی کوریا 50 سے زیادہ عطیات فی10 لاکھ آبادی کے ساتھ سرِفہرست ہیں، جب کہ پچھلے سال یہ اعزاز تُرکیہ اور سعودی عرب کو حاصل تھا۔ پاکستان9,92 کی شرح کے ساتھ اِس فہرست کے وسط میں کھڑا ہے۔ دوسری طرف اسپین اور امریکا بھی تقریباً50 عطیات فی10 لاکھ آبادی کے ساتھ بعد از مرگ عطیہ کرنے والے ممالک میں کئی سال سے سبقت لے رہے ہیں۔
اسپین، اٹلی، فرانس، بیلجیم میں’’opt-out‘‘ نظام رائج ہے۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ اگر کسی نے مرنے سے پہلے واضح طور پر اعضاء کے عطیے سے انکار نہیں کیا، تو اُسے ممکنہ ڈونر سمجھا جاتا ہے، لیکن خاندان کی مرضی پھر بھی ضروری تصوّر کی جاتی ہے۔ جب کہ جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا وغیرہ میں اختیار کردہ نظام ’’opt-in‘‘ہے، یعنی عطیہ کے لیے واضح رضامندی درکار ہے۔
امریکا، یورپ اور آسٹریلیا میں ٹرانس پلانٹیشن پروگرام بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں صحتِ عامّہ کے مربوط نظام کی موجودگی میں منظّم طورپراعضاء کے عطیات وصول کیے جاتے ہیں۔ چین نے بہتر اقدامات سے مُردہ عطیہ دہندگان سے اعضاء کی وصولی میں پیش رفت کی ہے اور وہاں اندازاً سالانہ20 ہزار سےزائد پیوند کاری کےآپریشن ہورہے ہیں، مگر آبادی کے تناسب سے طلب اور رسد کی شرح میں ہنوز بہت فرق ہے۔ یعنی بحیثیتِ مجموعی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہےکہ عطیہ کیے گئے اعضاء کی کمی پوری دنیا میں ایک اہم مسئلہ ہے۔
پاکستان میں صُورتِ حال:۔ پاکستان کا ذکر کریں، تو یہاں اندازاً50 ہزار مریض ہر سال اعضاء کی خرابی کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تقریباً 20ہزار مریضوں کو ٹرانس پلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سے صرف ہزار، بارہ سو ہی اِس سہولت سے فائدہ اُٹھا پاتے ہیں، کیوں کہ یہاں90 فی صد سے زیادہ پیوند کاری، زندہ عطیہ دہندہ کے، جو قریبی رشتےداربھی ہو، عطیے پر منحصر ہے۔
پاکستان میں اعضاء کی پیوند کاری کا آغاز سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورآلوجی اینڈ ٹرانس پلانٹ کے بانی، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے مرہونِ منّت ہے۔ گُردے کی پیوند کاری کے پہلے کام یاب آپریشن سے لےکراِس شعبےکوعملی طور پر فروغ دینے اور اعضاء کے عطیے کی قانونی جدوجہد (ٹرانس پلانٹ ایکٹ) کا سہرا اُن ہی کے سَر جاتا ہے۔ ابھی جون2026ء میں لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ نے24 گھنٹوں کے دوران10 مریضوں کی کام یاب جگر کی پیوند کاری مکمل کر کے ایک تاریخی اور عالمی اعزاز بھی اپنے نام کیا ہے۔
مگر ٹرانس پلانٹ کے خواہش مند مریضوں کی وسیع تعداد اور دست یاب قانونی اعضاء کی کمی نے تجارتی غیرقانونی پیوند کاری کو منافع بخش کاروبار کی شکل دے دی ہے۔ پاکستان میں بالخصوص گُردوں کی غیرقانونی پیوند کاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔
اس سے متعلق حتمی، مصدّقہ یا سرکاری اعدادوشمار تو دست یاب نہیں، مگر بعض ماہرین کے اندازے کے مطابق، پاکستان میں ہرسال گُردوں کے ایک ہزار ٹرانس پلانٹ ہوتے ہیں، جن میں سے تقریباً 500 کے قریب غیر قانونی طور پر انجام پاتے ہیں، جب کہ کچھ کے خیال میں ابھی بھی بلیک مارکیٹ میں غیر قانونی ٹرانس پلانٹ کی تعداد ہزار سے1500کے درمیان ہوسکتی ہے۔ ماضی میں پاکستان ٹرانس پلانٹ ٹورازم کامرکزرہ چُکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2005ء تک سالانہ1500 غیرمُلکی، نجی اسپتالوں میں ٹرانس پلانٹ کرواتے تھے۔2007 ء تک یہ تعداد بڑھ کر 2500پیوند کاریاں سالانہ تک جا پہنچی تھی، جن میں سے دو ہزار غیرمتعلقہ کمرشل پیوند کاریاں تھیں اور اُن سے1500 غیر مُلکی فیض یاب ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بَھر میں ہونے والے ٹرانس پلانٹ کا5 سے10 فی صد غیر قانونی یا بلیک مارکیٹ سےحاصل اعضاء سے ہوتا ہے۔
پاکستان اُن پانچ سرِفہرست ممالک میں شامل رہا ہے، جہاں اعضاء کی غیر قانونی تجارت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہاں اعضاء کی غیر قانونی تجارت کے خلاف2007ء میں ٹرانس پلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز آرڈینینس اور2010 ء میں ٹرانس پلانٹیشن آف ہیومن آرگن اینڈ ٹشوز ایکٹ کا نفاذ کیا گیا، جس کے تحت مریض کے قریبی رشتے داروں کواعضاء عطیہ کرنے کی اجازت دے کر غیر متعلقہ افراد سے اعضاء کی خریدو فروخت پر پابندی لگائی گئی، لیکن عملی طور پر اس پر مکمل قابو پانا ہیومن آرگن ٹرانس پلانٹ اتھارٹی ( HOTA ) کے لیے ایک چیلنج ہے۔
ہر دو، چار مہینے میں اِس دھندے میں ملوّث مختلف افراد کے پکڑے جانے کی اطلاعات منظرِعام پر آتی رہتی ہیں، جو پاکستان میں موجود خفیہ نیٹ ورک چلانے والے ایسے منظّم گروہوں کی نشان دہی کرتی ہیں، جو قانون کی نظروں سے بچ کر نجی کلینکس، گھروں یا خفیہ جگہوں پر غیر قانونی آپریشن تھیٹر بنا کر پیوند کاری کے کاروبار کا حصّہ بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پنجاب غیرقانونی گُردوں کی پیوند کاری کا گڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ راول پنڈی، اسلام آباد کے مضافات، کشمیر اور گلگت بلتستان کے نام بھی اِس ضمن میں خبروں میں آتے رہے ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے کہ غربت، بے روزگاری اور معاشی مجبوری انسانی اعضاء فروخت کرنے کی وجہ بن جاتی ہے اور یہ تجارتی عطیات نہ صرف صاحبِ ثروت مقامی بلکہ غیرمُلکی شہریوں کو بھی راغب کرتے ہیں۔
اِس غیرقانونی عمل سے انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ رضا کارانہ عطیہ کرنےوالوں کی ہمّت بھی پَست ہوتی ہے۔ اِس کاروبار سے وابستہ افراد کے ایجینٹس ضرورت مند غریب افراد تلاش کرکے اُنھیں چند لاکھ کا لالچ دے کر گُردہ فروخت کرنے پر آمادہ کرتے ہیں یا سادہ لوح افراد کو نوکری کا جھانسا دے کر یا دھوکا دہی سے اُن کا گردہ حاصل کرتے ہیں اور مقامی یا غیر مُلکی مریضوں کو کئی گُنا زیادہ (70لاکھ سے ایک کروڑ) میں فروخت کردیتے ہیں۔
ٹرانس پلانٹ کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے عطیہ دہندہ اور وصول کنندہ دونوں کو جلد از جلد اسپتال سے فارغ کردیا جاتا ہے، یوں اُنھیں آپریشن کے بعد درکار ضروری مدد فراہم نہیں ہوپاتی، جو فریقین کی صحت اور زندگی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ہی سچّائی مختلف زاویوں سے بالکل مختلف نظر آسکتی ہے۔ یعنی ہر معاملے، مسئلے یا نقطۂ نظر کے ہمیشہ مختلف پہلو ہوتے ہیں، چاہے اُسے کتنی ہی باریکی سے کیوں نہ دیکھا جائے۔ شاید یہ بات یہاں بھی صادق آتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کی بیخ کنی کے لیے بنایا جانے والا قانون، جس کے تحت صرف خونی رشتے داروں سے اعضاء وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے، کہیں مجبوراً چوری چُھپے غیر قانونی پیوند کاری کو بڑھاوا دینے کی وجہ تو نہیں بن رہا۔
عالمِ اسلام کا موقف:۔ دنیا کے تمام بڑے مسلم ممالک میں علماء اور دینی اداروں نے مخصوص شرائط کے ساتھ اعضاء کی پیوند کاری کو جائز اور انسانی جان بچنے کا ذریعہ قرار دیا ہے، جب کہ بہت سے علماء اِسے درست نہیں سمجھتے۔ سعودی عرب کی کبار العلماء کاؤنسل نے 1982 ء میں اس کے حق میں فتویٰ جاری کیا بلکہ وہاں سرکاری سطح پر عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مصر میں جامعۃ الازہرعطیہ کرنے کی تائید کرتی ہے اور تُرکیہ کے سرکاری دینی ادارے ’’دیانت‘‘ نے اسے صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے۔
انڈونیشیا کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی، مجلسِ علماء انڈونیشیا نے اسے جائز ٹھہرایا ہے، تو ایرانی فقہاء اور مجلسِ شوریٰ کے نزدیک یہ مکمل طور پر جائز اور پسندیدہ عمل ہے۔ پاکستان میں بھی اسلامی نظریاتی کاؤنسل نے مخصوص شرائط کے ساتھ اعضاء عطیہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
حاصلِ مطالعہ:۔ اِس اختلافی اور اجتہادی مسئلے پر ابہام دُور کرنے کے لیے مختلف مکاتبِ فکر کے جیّد مفتیانِ کرام، ڈاکٹرز اور حکومت کو مل کر سنجیدگی سے واضح گائیڈ لائن اور لائحۂ عمل دینا چاہیے۔ اِس کے علاوہ، دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی قومی سطح پر ڈیجیٹل ڈونررجسٹری کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جا سکتا ہے، جہاں سرکاری سرپرستی میں یقینی شفّافیت کے ساتھ اعضاء کے عطیات وصول کر کے حق داروں کو فراہم کیے جائیں۔