• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرا سٹی بس اڈوں کے باوجود کئی غیرقانونی اسٹاپس قائم، ٹریفک جام، حادثات کا خدشہ

کراچی(اعجاز احمد / اسٹاف رپورٹر ) کراچی میں موٹر وے ایم نائن اور یوسف گوٹھ، بلدیہ ٹائون میں انتظامیہ کی جانب سے باقائدہ ’’انٹرا سٹی بس اڈوں‘‘ کے قیام کے باوجودکئی مقامات پر غیرقانونی بس اڈے قائم کردیے گئے ہیں، جہاں سے روزانہ مسافر بسیں بیرون شہر جاتی اور وہاں سے آتی ہیں ، جب کہ پلوں سمیت بعض جگہوں پر ڈمپرز، ٹرک، ٹریکٹر ٹرالیاں، تعمیراتی کا موں میں استعمال ہونے والی بھاری مشینیں، پرانی گاڑیاں اور درجنوں رکشے پارک کرنے کے ساتھ ساتھ سروس روڈز اور فٹ پاتھ پر دھڑلے سے بلاکس رکھ کر ریتی بجری کا کاروبار بھی کیا جارہا ہے، جس کے باعث نہ صرف سڑکیں تنگ ہوجاتی ہیں ، بلکہ وہاں خطرناک ٹریفک حادثات کا خدشہ بھی ہر وقت موجود رہتا ہے ۔ دوسری جانب کمشنرکراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت پیر کو ان کے دفتر میں ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لئے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ، اسد ضامن ، سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت ، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ، آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان، ٹرانسپورٹرز راہنماء ملک شیر خان، محمد رمضان، ندیم آرائیں، حمید بلوچ، عدیل عباسی اور دیگر نے شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق شہری انتظامیہ نے موٹروے ایم نائن اور یوسف گوٹھ، بلدیہ ٹائون میں باضابطہ انٹرا سٹی بس اڈے قائم کئے ہوئے ہیں، مگر اس کے باوجود شاہراہ پاکستان پر سہراب گوٹھ پل کے قریب، الآصف اسکوائر سہراب گوٹھ، قلندریہ چوک نصرت بھٹو کالونی، کینٹ اسٹیشن، کورنگی نمبر5، بھٹائی کالونی، قیوم آباد، پہلوان گوٹھ گلستان جوہر اور بعض دیگر مقامات پر غیر قانونی بس اڈے قائم کردیے گئے ہیں ، جس کے نتیجے میں مذکورہ مقامات پر ہر وقت ہڑبونگ کا منظر اور ٹریفک جام نظر آتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید