خالقِ تام نے وقتِ تخلیق ہی مخلوق کی مستقبل میں درکار تمام تر ضروریات پوری کرنے کا مکمل بندوبست کر دیا۔ باریک بینی سے جائزہ لیں، تو اِس منظّم و مربوط کائنات کا کوئی پہلو اور کوئی زاویہ نامکمل یا تشنہ نہیں۔ تکوینی نظام میں خدائے بے عیب نے ہر مخلوق کو وہ تمام مادّی وسائل ( ہوا، پانی، حرارت، روشنی، مٹّی، خوراک وغیرہ) اور صلاحیتیں بخشیں، جو اُس کے وجود و بقا کے لیے لازم ہیں۔
مثلاً جانوروں کے برعکس، انسانوں کو جبلّت کے ساتھ عقل بھی ودیعت کی گئی۔ ہر چند کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل ایک عظیم نعمت ہے اور اس سے انسان، خالق کی موجودگی کا احساس، اس کے بھیجے گئے انبیائے کرامؑ کی پہچان، نیک و بد میں تمیز اور اشیاء میں موجود حُسن و قباحت میں امتیاز کر سکتا ہے۔
وہ نہ صرف عالم گیر اُصولوں کی بنیاد پر اچھائی اور برائی کا ادراک کر لیتا ہے، بلکہ بدلتی ضروریات و حالات کے ساتھ خُود کو ہم آہنگ بھی کر سکتا ہے، مگر کچھ عوامل جیسے حِسی حدود، دماغ کی حیاتیاتی اور ساختی حد، علمی تعصّبات (cognitive biases) اور زمان و مکان کی قید اُسے محدودیت کا شکار کر دیتے ہیں۔
پھر مختلف نوعیت کے علوم مثلاً میٹا فزکس یا کوانٹم فزکس کے سامنے انسانی منطق اکثر ناکام ہو جاتی ہے۔ گویا، انسانی عقل معلوم دنیا میں کام کرنے کے لیے بہترین ہونے کے باوجود مطلق نہیں ہے اور یہ مشاہدے، تجربے یا دست یاب معلومات کے دائرے ہی میں کام کر سکتی ہے۔ یہاں ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عقل ہمیں تصویر کا صرف ایک رُخ دِکھاتی ہے اور پوری تصویر دیکھنے، سمجھنے کے لیے اُسے دوسری جہت سے بھی دیکھنا ضروری ہے۔
انسان محض مادّی ضروریات کا مجموعہ نہیں کہ اگر ایسا ہوتا، تو اُس کی تگ و دو صرف خوراک، لباس، گھر اور بقا تک محدود ہوتی، مگر زندگی میں معنویّت اور مقصد کی تلاش، جبلّتِ بقا( survival instinct)کے برعکس اپنی جان و مال کو کسی دوسرے کی مدد یا نظریے کی خاطر قربان کرنا، عدالت، صداقت، حریّت اور محبّت جیسے غیر مادّی مفاہیم کی اہمیت سمجھتے ہوئے اُن کے لیے جدوجہد کرنا، جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے فنون جیسے شاعری، مصوّری، موسیقی وغیرہ سے لُطف اندوز ہونا اور ضمیر کا اطمینان یا داخلی شعور کی ملامت صرف انسان ہی کا طرّۂ امتیاز ہے۔
یعنی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک اخلاقی، فکری اور روحانی وجود بھی ہے۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت بے نقاب کرتا ہے کہ جب بھی انسان نے محض اپنی عقل، تجربے اور خواہشات کو حتمی معیار بنایا، وہ انتشار، ظلم اور گم راہی کا شکار ہوا۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں لُطفِ الہٰی انسانوں پر نبوّت کی صُورت جلوہ گر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ سلسلۂ نبوّت انسان کو درکار اخلاقی، روحانی اور فکری رہنمائی فراہم کرنے کا وسیلہ ہے۔
انسانی فطرت اور نفسیات کے عمومی مطالعے سے بھی یہ آشکار ہے کہ وہ ایک رول ماڈل یا عملی نمونے کی تلاش میں رہتا ہے، جس کے واضح اثرات اُس کے افکار کی تزئین و ترتیب اور افعال کی انجام دہی میں نظر آتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں بیان کریں، تو دین کا بنیادی تقاضا توحیدِ پروردگار کا اقرار اور اخلاقِ انسانی کو نقطۂ کمال تک پہنچانا ہے۔ اور اِس گوہرِ مقصود کے حصول کے لیے مہیّا کیے گئے اسبابِ الہٰی، جیسے انبیائے کرامؑ کے ذریعے ہمیں منتقل کی گئی وحی اور اُن کا اسوہ ہی حجت ہو سکتے ہیں۔ اِسی لیے ہر دَور کے انسان پر لازم رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے اپنے وقت کے ہادی اور رہبر کو پہچانے اور اُس کی اتباع کرے۔
نبی عربی زبان کے لفظ’’ نبا‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی اہم اور یقینی خبر دینا ہے۔ اصطلاح میں نبی وہ انسان ہے، جسے اللہ تعالی وحی کے ذریعے غیب کی خبریں اور ہدایت عطا فرماتا ہے تاکہ وہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچائے۔ نبوّت کسی مخصوص زمانے، قوم یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ ہدایتِ انسانی کا ایک مسلسل اور منظّم نظام ہے۔ نبی وہ ہستی ہے، جسے اللہ تعالی منتخب فرماتا ہے تاکہ وہ انسانوں کو اُس کے خالق سے متعارف کروا سکے، اُسے زندگی گزارنے کے صحیح طریقے سِکھائے اور آخرت کی جواب دہی کا شعور عطا کرے۔
نبوّت ایک عطیۂ ربّانی ہے، جس کی حقیقت تک رسائی غیر نبی کو نہیں ہوسکتی کہ اِس کی حقیقت حق تعالیٰ جانتا ہے، جو نبوّت عطا کرنے والا ہے یا پھر وہ ہستی، جو اِس منصب سے سرفراز ہوئی۔ نبوّت بندوں پر احسانِ خداوندی ہے کہ وہ اُنہیں ایسے اسباب مہیّا کرے، جو اُنہیں اطاعتِ الہٰی کے قریب اور معصیت سے دُور کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں مختلف مقامات پر انبیائے کرامؑ کی بعثت کا ذکر فرمایا ہے۔
نبی نہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دینے والا اور گم راہی سے خبردار کرنے والا ہوتا ہے، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک ایسا زندہ نمونہ ہوتا ہے، جس کا قول، فعل اور کردار سب وحی اور شریعت کی حقیقی تفسیر بن جاتے ہیں۔ چوں کہ نبوّت ایک بھاری ذمّے داری ہے، اِس لیے اللہ تعالی اپنے نبیوں کو خاص صفات سے آراستہ فرماتا ہے۔ وہ بشریت کے ساتھ عصمت، صداقت، عدالت، امانت اور دیانت سے مزیّن ہوتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں26 انبیائے کرامؑ کا ذکر ہوا ہے، جب کہ احادیثِ مبارکہؐ میں یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ،24 ہزار بیان ہوئی ہے۔ اِن تمام انبیائے کرامؑ میں حضرت محمّد ﷺ کی رسالت’’رسالتِ خاصّہ‘‘ ہے کہ یہ اپنی عالم گیرت، جامعیت، اکملیت اور خاتمیت کی بناء پر نبوّتِ عامّہ سے مختلف ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر40 میں نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیّین ہونے کا واضح اعلان کیا گیا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یوں ہے۔’’محمّد ﷺ تم مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ اور اللہ ہر بات کو خُوب جاننے والا ہے۔‘‘
مختلف احادیث میں بھی بہت وضاحت سے حضرت محمّد ﷺ کے خاتم النبیّین ہونے کا ذکر آیا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاءؑ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک بہت ہی خُوب صُورت اور دیدہ زیب محل تعمیر کیا، لیکن اُس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اُس کے گرد گھومنے لگے اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے۔’’یہ اینٹ یہاں کیوں نہ رکھی گئی؟‘‘ (تاکہ یہ عمارت مکمل ہو جاتی)۔ پس، مَیں وہی اینٹ ہوں اور خاتم النبیّین ہوں۔‘‘
یعنی نبوّت اور رسالت کا خاتمہ، حضرت محمّدﷺ کے ساتھ مخصوص ہے۔ آپ ﷺ کا زندۂ جاوید معجزہ، یعنی قرآنِ پاک بھی ہر دَور اور ضرورت کے لیے کافی ہے۔ قرآنِ مجید کی حفاظت اور اِس کے تاقیامت باقی رہنے کے ضمن میں خُود قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہؐ میں واضح اشارات اور بشارتیں موجود ہیں، جب کہ تاریخی شواہد بھی اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ ڈیڑھ ہزار برس سے اِس کتاب کا ایک ایک لفظ نسل در نسل ہزاروں، لاکھوں سینوں میں محفوظ چلا آ رہا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر21میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلّم کی ذاتِ اقدس پوری انسانیت کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دی گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہؐ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔‘‘ اِسی طرح سورۃ القلم کی آیت نمبر4 میں آپﷺ کے اخلاق کو’’خُلقِ عظیم‘‘ کہا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔’’اور یقیناً تم اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہو۔‘‘
سورۂ توبہ کی آیت نمبر128 میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ پاک، سرورِ کائنات ﷺ کی اپنی اُمّت سے محبّت اور اُس کی کام یابی کے لیے کوشاں ہونے پر دلالت ہے۔ ترجمہ۔’’(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسے رسول آئے ہیں، جو تمہی میں سے ہیں، جنہیں تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جنہیں تمہاری بھلائی کی دُھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہیں۔‘‘
حضرت محمّد ﷺ سے قلبی ربط یعنی محبّت اور عملی تعلق یعنی اتباع، اسلام کی بنیاد اور ایمان کی تکمیل ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہؐ میں یہ دونوں پہلو واضح اور جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ قادرِ مطلق سورۂ توبہ کی آیت24میں اعلان کرتا ہے کہ’’(اے پیغمبرؐ ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت، جو تم نے کمایا ہے، اور وہ کاروبار، جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان، جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اُس کے رسول سے، اور اُس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔‘‘
بخاری شریف کی ایک حدیث میں مسلمانوں کا نبی کریم ﷺ سے تعلق اِس طرح بیان ہوا۔’’تم میں سے کوئی اُس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ مَیں اُسے اُس کے باپ، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ کسی مسلمان کو ایمان کی حلاوت اور مضبوطی تب ہی نصیب ہوتی ہے، جب دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبّت کائنات کی ہر شئے سے بڑھ کر ہو۔ محبّت کا دعویٰ تب تک ادھورا ہے، جب تک اُسے عمل سے ثابت نہ کیا جائے۔
قرآنِ پاک نے سورۃ النساء کی آیت نمبر80میں اطاعتِ رسول ﷺ کو اطاعتِ الٰہی قرار دیا ہے، جب کہ سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر31میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبّت کے لیے نبی ﷺ کی پیروی کو شرط قرار دیتے ہوئے گناہ بخشنے کی خُوش خبری دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’(اے پیغمبرؐ ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبّت رکھتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘
امام الانبیاء، حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ سے قلبی ربط ایمان کی چاشنی، سکونِ قلب اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی رفاقت سے بہرہ مند ہونے کا ذریعہ ہے، جب کہ عملی تعلق اللہ تعالیٰ کی خُوش نُودی، گناہوں کی معافی اور معاشرے میں امن و سکون کا باعث ہے۔ اِسی سے دنیا میں سربلندی اور آخرت میں شفاعتِ رسول ﷺ نصیب ہوگی۔ سرکارِ دو عالم ﷺ سے محبّت اور اُن کی اطاعت دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر قلبی ربط کی تمثیل’’شمع‘‘ ہو، تو عملی تعلق اُس کی’’روشنی‘‘ ہوگی۔
اگر دل میں محبّت ہو، مگر عمل سنّتِ نبویؐ سے مطابقت نہ رکھتا ہو، تو وہ دعویٰ کم زور ہے۔ دوسری طرف، اگر عمل ہو، مگر دل میں تڑپ اور محبّت نہ ہو، تو وہ عمل بے رُوح ہے۔ نبوّتِ محمّدی ﷺ محض ایک مذہبی عقیدہ یا تاریخی حقیقت نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے فکری، اخلاقی اور تمدّنی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ عہدِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان نے علم اور ٹیکنالوجی کو تو ترقّی دے دی، مگر اخلاق، مقصدیت اور روحانی توازن نظرانداز کر دیا۔ جدید دنیا میں قانون سازی موجود ہے، مگر انصاف ناپید ہے۔ آزادی کے نعرے ہیں، مگر انسان مختلف انداز کی غلامیوں میں جکڑا ہوا ہے۔
معلومات کی فراوانی ہے، مگر حکمت کی کمی ہے۔ ایسے میں اسوۂ محمّدیؐ محض ایک مذہبی یادگار نہیں، بلکہ ایک زندہ فکری نظام کے طور پر سامنے آتا ہے، جو سفینۂ انسانی کو اُس کی اصل پہچان، ذمّے داری سے آگاہ اور منزل تک پہنچاتا ہے۔ نبوّتِ محمّدی ﷺ کی ایک خصوصیت ابدیت اور عالم گیریت ہے۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور نئی شریعت یا وحی کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو چُکا ہے، مگر یہ ختمِ نبوّت کسی فکری جمود کا اعلان نہیں، بلکہ انسانی ہدایت کی تکمیل کا اعلان ہے۔ قرآنِ مجید، جو نبی ﷺ پر نازل ہوا، محض ایک مذہبی کتاب نہیں، بلکہ ایک باقی رہنے والا معجزہ اور دائمی رہنما ہے۔
یہی قرآن اِس بات کی دلیل ہے کہ اب انسانیت کو کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ہدایت کا کامل اور محفوظ سرچشمہ موجود ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت اِس تصوّر کو بھی رَد کرتی ہے کہ دَورِ رواں کا انسان مذہبی رہنمائی سے بے نیاز ہو چُکا، حالاں کہ جدید انسان تو پہلے سے زیادہ رہنمائی کا محتاج ہے۔ عہدِ حاضر میں حضرت محمّد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ یا آپ ﷺ کی تعلیمات کو صرف جذباتی وابستگی یا روایتی عقیدت کے دائرے میں محدود کر دینا ایک فکری کوتاہی ہوگی۔
حضرت محمّدﷺ کے نبی ہونے کی زبانی شہادت دینا کافی نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیّبہ یا تعلیمات سے کس حد تک آگاہ ہیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اُن سے کس قدر استفادہ کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات محض مسجد، منبر یا سیرت کی کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرتی نظام کی معمار ہیں، جس میں اخلاق، عدل اور رحم بنیادی ستون ہیں۔
موجودہ عہد میں اُمّتِ محمّدیؐ کی پستی اور زوال کے اسباب پر غور کریں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے بے پناہ محبّت و عقیدت کے دعوے کے باوجود، اکثریت کی زندگی آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہؐ اور تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ گویا، حضرت محمّد ﷺ سے عملی تعلق اور اتباع کی کمی ہی اُمّتِ مسلمہ کی کم زوری و پستی کی بنیادی وجہ ہے۔ اگر آج مسلمان معاشرے انحطاط کا شکار ہیں، تو اس کا سبب آپ ﷺ کی تعلیمات کی کمی نہیں، بلکہ اُن سے عملی اور شعوری دُوری ہے۔
افسوس ناک طور پر نبی کریم ﷺ سے تعلق محض سطحی نعروں، جذباتی خطابات یا تاریخی فخر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، حالاں کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن کی سیرت کو جدید فکری انداز و زبان میں پیش کیا جائے، اُن کے اخلاقی اصولوں کو موجودہ سماجی و سیاسی مسائل کے حل کے طور پر سمجھا جائے اور اُن کے اسوۂ حسنہ کو عملی زندگی میں زندہ کیا جائے۔ یہ ترویج محض تبلیغ نہیں بلکہ فکری تشکیل، اخلاقی تربیت اور اجتماعی اصلاح کا عمل ہے۔
تعلیماتِ محمّدی ﷺ انسان کو نہ صرف اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے بلکہ انسان کو انسان سے جوڑنے کا ہنر بھی سِکھاتی ہے۔ یہ فرد کو مقصدِ حیات دیتی، معاشرے کو عدل سِکھاتی اور تہذیب کو اخلاقی سمت فراہم کرتی ہے۔ اگر دورِ جدید کا انسان واقعی اپنے بحرانوں سے نکلنا چاہتا ہے، تو اُسے نئی اقدار کی ایجاد نہیں، اُس آخری نبی ﷺ کی طرف واپسی کی ضرورت ہے، جن کی تعلیمات زمانے کی گرد سے بالاتر اور دارین کی کام یابی کی ضامن ہیں، اور یہی ذاتِ محمّد مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔