• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملیر میں سرکاری اسکول کو تالا لگا دیا گیا، 674 طلبہ تعلیم سے محروم

کراچی (سید محمد عسکری) محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مبینہ عدم توجہی کے باعث غازی بروہی، ملیر سٹی میں واقع گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول ملیر ماڈل کی عمارت نہ کھلوائی جاسکی، جس کے نتیجے میں اسکول میں زیرتعلیم 674طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بند ہوگئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ایلیمنٹری، سیکنڈری و ہائر سیکنڈری ملیر اقبال حسین میمن نے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کراچی کو ارسال کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ نجی اسکول کے منتظم جاوید سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے اور انہوں نے اسکول کا تالا کھول کر تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم بعدازاں مبینہ طور پر دوبارہ اسکول کے امور میں مداخلت اور تدریسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا شروع کردی گئی۔ محکمہ تعلیم نے معاملے کو انتہائی ہنگامی اور عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سے 674طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کے ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہوسکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معاملہ حل کرانے کے لئے ڈپٹی کمشنر ملیر کو متعدد خطوط اور یاددہانیاں ارسال کی گئیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس نے ایس ایس پی ملیر اور اسسٹنٹ کمشنر مراد میمن کو قانون اور قواعد کے مطابق ضروری کارروائی کی ہدایت کی، تاہم اس کے باوجود اسکول کا قبضہ محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کیا جاسکا۔ محکمہ تعلیم نے 3 ستمبر کو اعلیٰ حکام کی ہدایت پر اسکول دوبارہ کھلوانے کی کوشش کی، لیکن موقع پر صورتحال انتہائی حساس اور کشیدہ ہوگئی۔ اسکول کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے ملیر سٹی تھانے کے ایس ایچ او کو قانونی کارروائی اور پولیس معاونت کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دی، تاہم رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کیا، جس کے باعث اسکول کی عمارت نہ کھلوائی جاسکی۔ اسکول عملے کے تحریری بیان کے مطابق اساتذہ، ملازمین اور طلبہ نے عمارت کے باہر پرامن احتجاج کیا اور اسکول کھول کر تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب انہوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو نجی اسکول انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور عملے کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، جس سے طلبہ اور اساتذہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دستاویزات کے مطابق مذکورہ اسکول کو یکم اکتوبر 1972 کو قومی تحویل میں لیا گیا تھا اور اس وقت سے یہ سرکاری تعلیمی ادارے کے طور پر کام کرتا آرہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید