• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب ایچ ای سی کو 11 برس بعد بھی اونر شپ نہیں ملی، ڈاکٹر اقرار

کراچی(سید محمد عسکری) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا ہے کہ قیام کے 11برس گزرنے کے باوجود پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں مطلوبہ اونرشپ، عملی خودمختاری اور فیصلہ سازی کا کردار نہیں دیا گیا۔ کمیشن کو قانون کے تحت حاصل اختیارات بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کرنے دیئے جارہے اور صوبائی جامعات کو گرانٹ دینے کا نظام بدستور محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ایک سیکشن افسر کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ کراچی کے دورے کے دوران روزنامہ جنگ/ دی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین، پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد اور پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، تاہم ادارہ آج تک صوبائی حکومت کی مکمل انتظامی سرپرستی اور اونرشپ حاصل نہیں کرسکا۔ انہوں نے سندھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سابق چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنیاد رکھی اور اسے فعال کیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے ادارے میں جان ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ میں چارٹر انسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں کے معائنے اور جائزے کا باقاعدہ نظام رکھتی ہے، لیکن پنجاب میں قانون میں موجود نگرانی، جانچ اور ایکریڈیٹیشن کے اختیارات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہورہا۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تقریباً 51 سرکاری اور 32 نجی جامعات کام کر رہی ہیں۔ سرکاری شعبے کی پانچ زرعی اور ویٹرنری جامعات بھی ایسے مالی مسائل سے دوچار ہیں جن کے مطابق انہیں مطلوبہ گرانٹ دستیاب نہیں ہو رہی۔ علاوہ ازیں آٹھ سرکاری طبی جامعات کا بجٹ الگ ہے اور انہیں فنڈز محکمہ صحت پنجاب فراہم کرتا ہے۔ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی ایچ ای سی کی جامعات کے لئے سالانہ ریکرنگ گرانٹ گزشتہ تقریباً آٹھ برس سے 65سے 66ارب روپے کے درمیان منجمد ہے، حالانکہ اس دوران جامعات، طلبہ، تنخواہوں، پنشن، یوٹیلیٹی اخراجات اور مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27ء میں بھی وفاقی ایچ ای سی کی ریکرنگ گرانٹ تقریباً 66.4ارب روپے رکھی گئی ہے، جو ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ اسے بڑھا کر کم از کم 200ارب روپے کیا جانا چاہئے۔ سرکاری بجٹ دستاویزات اور رپورٹس بھی تصدیق کرتی ہیں کہ 2017-18ء میں ریکرنگ گرانٹ تقریباً 65ارب روپے تھی اور اب بھی تقریباً اسی سطح پر ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد نے کہا کہ18ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے بیشتر انتظامی، مالی اور نگرانی کے اختیارات صوبوں کے پاس ہونے چاہئیں۔

اہم خبریں سے مزید