تحریک و قیامِ پاکستان، ان کی بنیادوں، اسباب اور پس منظر کے حوالے سے اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ فہرست بھی بنانا چاہیں، تو یہ امر ناممکن رہے گا۔ تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کو تو جو کام یابی ملنی چاہیے تھی، وہ ایک حد تک ملی ہی، لیکن جو مُلک ’’پاکستان‘‘ کے نام سے معرضِ وجود میں آیا، وہ اپنے حقیقی نظریے اور مقاصد سے ہرگز مطابقت نہیں کرتا۔ پاکستان کا آئین یقیناً اسے ایک اسلامی مملکت ظاہر کرتا ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں اور یہی صُورتِ حال اس مُلک کی دوسری بنیاد، ’’اُردو زبان‘‘ کی ہے۔
یہ زبان آئین میں درج ہونےاور مُلک کے باشعور، مخلص اور تعلیم یافتہ اکابر کی تمام تر کوششوں کے باوجود مملکت کے قیام سے لےکرتاحال قومی زبان نہیں بن سکی یا یوں کہہ لیں، قیام سے قبل کی استعماری زبان، انگریزی کی جگہ نہ لے سکی اور مملکت کے سارے سیاسی ومعاشرتی امور اسی استعماری زبان میں انجام دیے جارہے ہیں۔ گویا مُلک پر اب بھی انگریزوں ہی کی حکومت ہے۔
اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مختلف وجوہ کے باعث جو طبقہ اقتدار پر براجمان رہتا ہے، وہ ایک تو یہ شعور نہیں رکھتا کہ قومی زبان کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ دوم، یہ بھی نہیں جانتا کہ قومی زبان کو کس طرح نافذ کیا جانا چاہیے۔ جب تک تعلیم قومی زبان میں نہ دی جائے یا بطور تعلیمی زبان قومی زبان کو نافذ نہ کیا جائے، مُلک یا قوم کسی صُورت ترقّی حاصل نہیں کرسکتے۔
چوں کہ پاکستان ایک واضح ومکمل نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر طویل تر جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا، اِسی لیے اس مُلک کی قومی زبان کے پسِ پُشت بھی ایک واضح نظریہ موجود ہے، چناں چہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی قائدین، رہنماؤں کا یہ پُختہ یقین و نظریہ رہا کہ مُلک کی قومی زبان اُردوہوگی لیکن افسوس کہ یہ نظریہ بلکہ عقیدہ عملی طور پر بےنتیجہ ہے۔
ہرچند کہ اُردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا نظریہ بھی نظریۂ پاکستان کی طرح محکم و مستحکم ہے، لیکن قیامِ پاکستان کے عمل میں تو قوم کا باشعور طبقہ ہی نہیں، عوام بھی مستعد وسرگرم رہے اور اسے حقیقی رُوپ دینے میں بالآخر کام یابی حاصل کی مگر یہی عوام قومی زبان کےنفاذ میں بوجوہ کام یابی حاصل نہ کرسکے۔
دوسری جانب پاکستان اپنے قیام کے حقیقی مقصد کے حصول یا اسلامی مملکت بننے کے مرحلے سے بھی ابھی تک خاصا دُور ہے اور مُلک کی موجودہ قیادت اور اسلامی معاشرت و شعائر کے درمیان فاصلہ دیکھتے ہوئے کہا نہیں جاسکتا کہ یہ مُلک اسلام کے مکمل نفاذ کی منزل تک اندریں حالات کبھی پہنچ بھی سکےگا یا نہیں؟ جب کہ کچھ ایسی ہی بے اطمینانی قومی زبان کے نفاذ سے متعلق بھی پائی جاتی ہے۔
معروف دانش وَر، ڈاکٹر حسیب احمد نے اُردو کے نفاذ کے جواز و پس منظراور ضرورت واہمیت کےضمن میں ایک مدلّل ومؤثر کتابچہ، ’’اردو کا نفاذ ناگزیر کیوں؟‘‘ تحریر کیا ہے،نیز اِس مقصد کی کام یابی کی خاطر باقاعدہ ایک ادارہ، ’’تحریکِ نفاذِ اردو، پاکستان‘‘بھی تشکیل دے رکھا ہے، جس کے تحت کچھ رفقاء کے ساتھ مل کرتحریک کی کام یابی کے لیے مسلسل عملی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور مذکورہ کتابچہ اسی ادارے کے تحت شائع ہوا ہے، جسے ادارے کے قیام و پس منظر اور مقاصد پیش کرنے کے ضمن میں ایک بنیادی وسیلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
کتابچے کی پُشت پر مولانا اشرف علی تھانوی کا 1939ء میں اُردو زبان کی حفاظت و ترقّی کے مقصد سے جاری کردہ وہ معروف فتویٰ تحریر ہے، جو اُس زمانے میں خاصی شُہرت کا حامل رہا اور اب بالعموم نایاب سمجھا جاتا ہے۔ اس فتوے کے بعد بانیٔ پاکستان، قائدِاعظمؒ کے دو فرامین ہیں، جو اُن کی 21اور 24مارچ 1948ء کو ڈھاکا میں کی جانے والی تقاریر سے اخذ شدہ ہیں۔
یہ اُردو کے بطور قومی زبان نفاذ کےضمن میں نہایت مؤثر دلائل ہیں۔ نیز، اس باب میں بطور تکمّلہ آئینِ پاکستان کی شق نمبر 251 بھی درج کردی گئی ہے، جس کے بعد بظاہر کسی مزید دلیل یا شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔ کتابچہ 16 صفحات پر مشتمل ہے، جو فروری 2005ء میں قائم کردہ ’’تحریکِ نفاذ اردو‘‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔ اوّلین صفحے پر ’’تحریکِ نفاذِ اُردو‘‘ کا تعارف ہے اور قارئین کو بھی دعوتِ فکروعمل دی گئی ہے، جب کہ عبارت کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے۔ ’’مُلک کی بقا اور مثالی ترقّی کے لیے ذریعۂ تعلیم اُردو ناگزیر ہے۔‘‘
نیز، اختتامی اندرونی صفحے پر بھی اسی طرح کی نہایت معنیٰ خیز عبارات تحریر ہیں کہ ’’ پاکستان کی 90فی صد آبادی جو کہنا چاہتی ہے، کہہ نہیں سکتی، جو سمجھنا چاہتی ہے، سمجھ نہیں سکتی، کیوں کہ اُس کی زبان اُردو ہے، جب کہ اقتدار کے ایوانوں کی زبان انگریزی ، جسے پاکستان کی اکثریت نہ بول سکتی ہے اور نہ ہی سمجھ سکتی ہے۔‘‘
قومی زبان کے نفاذ کی ضرورت و اہمیت پر مشتمل اس طرح کے فکر انگیز، غور طلب موضوعات پر اظہارِ خیال کے بعد آخری دو صفحات پر فاضل مصنّف نے ’’نفاذِ اُردو کے سلسلے میں کرنے کے کام‘‘ سے متعلق اپنی نہایت مناسب اور موزوں تجاویز درج کی ہیں ،جن پر عمل پیرا ہو کر اُردو کے نفاذ کے عمل کو حقیقی رُوپ دیا جاسکتا ہے۔
المختصر، صُورتِ حال، مسائل و امکانات اور ضرورتوں کے تعلق سے اس تصنیف میں جو کچھ تحریر کیا گیا ہے، وہ اس موضوع پر موجود سیکڑوں، ہزاروں صفحات پر مشتمل کُتب میں اس قدر عُمدگی اور سلیقے کے ساتھ نظر نہیں آتا، جو اس مختصر ترین کتابچے میں سمیٹ دیا گیا ہے کہ جس سے استفادہ بھی آسان ہے اور جو اپنے موضوع اور مقصد کا حق ادا کرنے میں سوفی صد کام یاب بھی ہے۔