لندن (مرتضیٰ علی شاہ) بلاول کا محسن نقوی کو ’ناکام نظام‘ پر پارلیمنٹ میں بحث کا چیلنج، پی پی چیئرمین کا کہنا تھا ملک کی قسمت مٹھی بھر کاروباری افراد طے نہیں کر سکتے، نظام ناکام تو قومی اسمبلی میں اس پر بحث کی جائے۔ نئے صوبوں کے قیام کو پاکستان کے گہرے معاشی و سیاسی بحرانوں کا حل قرار نہیں دینا چاہیے، بلاول کا وفاقی حکومت سے تعاون جاری رکھنے کا اعلان، مریم نواز شریف کو چھوٹی بیٹی کی گریجویشن پر مبارک باد دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو چیلنج دیا کہ وہ پاکستان کے سیاسی اور طرزِ حکمرانی کے نظام کو ’’مکمل طور پر ناکام‘‘ قرار دینے سے متعلق اپنی تنقید کو پارلیمنٹ میں لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قسمت کا فیصلہ ’’مٹھی بھر کاروباری افراد‘‘ کاروباری فورمز پر نہیں کر سکتے اور اس نوعیت کے مباحث کے لیے درست فورم پاکستان کی پارلیمنٹ ہے۔ بلاول نے کہا کہ محسن نقوی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا پورا حق ہے، لیکن اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نظام کیوں ناکام ہوا اور اسے درست کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملک کی قسمت کا فیصلہ مٹھی بھر کاروباری افراد کریں۔ پاکستان کے نظام کی کمزوریوں اور ناکامیوں سے متعلق سوالات منتخب نمائندوں کے سامنے اٹھائے جانے چاہییں۔