نیویارک ( عظیم ایم میاں) امریکا کی وفاقی عدالت کی خاتون جج نے امریکی حکومت کو 64ملین ڈالرز (17 ارب 75کروڑ پاکستانی روپے)کا دھوکہ اور فراڈ کرنے کے الزام میں ایک 55 سالہ نیم خواندہ پاکستانی نژاد خاتون کو مجرم قرار دیتے ہوئے 76 ماہ کی سزا 5 ملین ڈالرز (ایک ارب 38کروڑ پاکستانی روپے)کے اثاثے ضبط اور 56 ملین ڈالرز (15ارب53کروڑ پاکستانی روپے)کی رقم ادا کرنے کا فیصلہ سنادیا ہے جبکہ اس مقدمے کے شریک ملزمان پرعلیحدہ علیحدہ مقدمات بھی چلائے جائیں گے۔ ذکیہ خان نامی خاتون پر الزام ہے کہ 2017 سے 2024 کے سات سالہ عرصہ میں بزرگ شہریوں کےلئے ڈے کیئر سنٹر قائم کرکے انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے نام پر حکومت سے ادائیگیاں حاصل کرنے میں رشوت،اور فراڈ سے کام لیا گیا خاموش اور خفیہ انوسٹی گیشن کے نتیجے میں 2024 میں ڈے کیئر سنٹرز کی سربراہ ذکیہ خان کی گرفتاری ضمانت اور دیگر افراد سے پوچھ گچھ کےُ مراحلُ مکمل ہوئے مقدمہ کی سماعت کے دوران ذکیہ خان نے الزامات کو درست تسلیم کرتے ہوئے اعتراف جرم کرلیا۔