اسلام آباد، پشاور، لاہور (طاہر خلیل، رانا غلام قادر،نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بالکل لگنی چاہیے اور لگےگی بھی، جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا، عطا ء تارڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی فیصلہ کرے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کیساتھ، امیر مقام نے کہا کہ آفریدی لانگ مارچ کی بجائے جیل جانے کی تیاری کریں، طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ کے پی قیادت کی ساری توجہ ایک قیدی کو رہا کرانے پر ہے، اختیار ولی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کو دیئے گئے فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں، سلمان اکرم راجا نے کہا بیک ڈور رابطے پر مارچ ملتوی نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جیو نیوزسے گفتگو میں کہا ہے کہ ایمرجنسی کےاطلاق پر آئین بہت واضح ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کے پی کےاندر گورنر رول کی بات ہو رہی ہے تو اس کا کوئی طریقہ کار زیرغور ہے اور اگرہےتو وہ کیا ہوگا؟ اعظم نذیر تارڑ نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ آئین تقاضا کرے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بالکل لگنی چاہیے اور لگےگی بھی، جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔