کراچی(اسٹاف رپورٹر) سابق کپتان محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے ، ساتھ ہی امام الحق کو کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے، دونوں پیر سے پریذیڈنٹ ٹرافی کے ساتویں اور آخری راؤنڈ میں بالترتیب سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی اور اوجی ڈی سی ایل کو دستیاب ہونگے۔ پی سی بی کے ایک ذریعے کے مطابق، انہیں پری سیزن فٹنس ٹیسٹ میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے تحقیقات کے سبب انہیں کھیلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ سوئی ناردن گیس کے ڈائریکٹر کرکٹ اور ہیڈ کوچ محمد حفیظ نے تصدیق کی کہ انہیں اس بارے میں باقاعدہ ای میل موصول ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ 34 سال کے محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست 2026 میں لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے ہارنے کے بعد پی سی بی نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان واپس بلالیا تھا۔ اب محمد رضوان اور بورڈ کے مابین معاملات بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، محمد رضوان خود بھی کسی مزید محاذ آرائی کے بجائے کرکٹ پر توجہ رکھنے کے خواہش مند ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیپال لیگ میں شرکت کے لئے پی سی بی سے این او سی مانگا ہے۔ البتہ انہیں پی سی بی کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا ۔