کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان کے ممتاز قانون دان، انسانی حقوق کے علمبردار ایس ایم ظفر کی تیسری برسی(آج) 19اکتوبرپیر کو منائی جائیگی۔ وہ ایک ممتاز قانون دان، پارلیمنٹیرین، آئین کے ماہر، مصنف اور سب سے بڑھ کر ایک انسان دوست شخصیت تھے۔ان کی عوامی زندگی سات دہائیوں پر محیط ہے۔ ایس ایم ظفر 6 دسمبر 1930 کو برما میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور گریجوایشن کی تعلیم حاصل کی۔ایس ایم ظفر نے یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1950 میں وکالت شروع کی اور چوٹی کے وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔ ایس ایم ظفر ایوب خان کے دور میں قانون و پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر رہے جبکہ 2003 سے 2012 تک مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر بھی رہے، وہ 1975 میں صدر لاہور ہائیکورٹ بار بنے اور 1979 میں سپریم کورٹ بار کے صدر بھی منتخب ہوئے۔مرحوم 1965 کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کی ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کا قیام اور 2003 سے 2012 تک سینیٹر کے طور پر خدمات شامل ہیں۔ ایس ایم ظفر نے بہت سے اہم کیسز لڑے اور ان میں کامیابی حاصل کی، مرحوم کئی کتابوں کے مصنف اور کالم نگار تھے، انکی مشہور تصانیف ”میرے مشہور مقدمے“ اور ڈائیلاگ آن پالیٹیکل چیس بورڈ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنی خود نوشت ایس ایم ظفر کی کہانی،ان کی زبانی بھی تحریر کی۔انہوں نے اردو اور انگریزی میں 12 سے زیادہ کتابیں بھی تحریر کیں جن میں ان کی آپ بیتی،ایس ایم ظفر کی کہانی،انکی زبانی،میرے مشہور مقدمے اور دیگر تصانیف شامل ہیں۔ایس ایم ظفر19اکتوبر2023ءکو 93برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔