• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہاں اتفاق رائے ہے وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جارہے ہیں، بلاول

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جہاں اتفاق رائے ہے وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جارہے ہیں، صدر مملکت کے دستخط کے بغیر صوبے نہیں بن سکتے، ایمرجنسی کا نفاذ بھی ممکن نہیں تھا، سیاست میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں، ورنہ سیاست نہیں کرسکتے، دہشت گردی کیخلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے، اپوزیشن کے پی میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے تو آئے مذاکرات کرے، سی ایم خیبرپختونخوا بزدل تھااپنی دھرتی کا دفاع کرنے کو تیار نہیں تھا، تحریک انصاف دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں تو پیپلزپارٹی ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، دہشت گردی کا خاتمہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن تھا، پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے تک پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی، پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے جب بھی کسی صوبہ میں ایمرجنسی نافذ کی، تو وہ آئین و قانون کے تحت کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے انکار کی وجہ سے ایمرجنسی لگانا پڑی مولانا فضل الرحمن ہم پر سیاسی تنقید ضرور کر یں لیکن دہشت گردوں کی بھی مذمت کریں، مولانا فضل الرحمن اگر کوشش کریں تو حکومت اور اپوزیشن میں ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ کارساز کے مقام پر صحافیوں پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی میں یادگار سانحہ کارساز پر حاضری دی، یادگار پر پھول رکھے اور شہداء کے ایصال ثواب و درجات کی بلندی کی دعا کی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر کیا گیا حملہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ تھا، جس میں سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان دہشت گردی کیخلاف جدوجہد کرنا اپنا ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی آخری جلسہ میں بھی کہا تھا کہ کچھ قوتیں ہیں جو سوات میں پاکستان کا جھنڈا نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن میں قوم سے وعدہ کرتی ہوں کہ ہم پاکستان کا جھنڈا سوات میں لہرائیں گی۔ "2008 میں جب پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی، تو ہم نے سوات میں، خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے مقابلے میں آپریشن شروع کیا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ایک بار پھر ملک بھر میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، خیبر سے لے کے خضدار تک دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر پاکستان کی بہادر افواج اور پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت عوام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس صوبہ میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ہو رہے تھے، اس صوبہ کا وزیراعلیٰ نے عوام کے سامنے جاکر کہا کہ وہ وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہے اور ہم سب کے ساتھ ملکر ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرینگے اور پاکستان کیخلاف کسی کو سرکشی کی اجازت نہیں دینگے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک تاریخی معاشی بحران جاری ہے اور اس معاشی بحراان میں ​جو حالات ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ حالات بہتر نہیں بلکہ مزید بگڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کے تدارک اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹورل نظام میں بہتری لانے کیلئے سب کو کوشش کرنا چاہیے۔انہوں نے اپوزیشن کو ایک بار پھر دعوت دی کہ وہ الیکٹرول ریفارمز کمیٹی میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ پختونخوا میں ایمرجنسی نظام اور گورنر راج ختم ہو، تو ان کو وفاقی حکومت کے ساتھ انگیج ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ ہم وہ پاکستان مل کے بنا لیں۔

اہم خبریں سے مزید