کراچی (رفیق مانگٹ) ایمازون اور بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2045ءتک لاکھوں انسان خلا میں رہائش اختیار کرچکے ہوں گے، جبکہ چاند اور دیگر اجرامِ فلکی پر کام کے لیے انسانوں کے بجائے روبوٹس بھیجنا زیادہ سستا اور مؤثر ہوگا۔ امریکی جریدے کے مطابق، بیزوس نے یہ خیالات اٹلی ٹیک ویک 2025 میں پیش کیے تھے۔سیم آلٹمین کو خلا میں نئی اور زیادہ معاوضے والی ملازمتوں کی توقع،ڈیلن ٹیلر کو 2030 کی دہائی میں خلائی آبادکاری کا امکان،مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس خوشحالی بڑھائیں گے،بانی ایمازون ، ایلون مسک کی 2028 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی پیش گوئی،بیزوس کے مطابق، لوگ اپنی خواہش سے خلا میں رہیں گے، کسی مجبوری کے تحت نہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں مایوسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ایجادات تہذیبی خوشحالی میں اضافہ کرتی ہیں اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گااوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کو توقع ہے کہ آئندہ دس برس میں جامعات سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو خلا میں نئی، دلچسپ اور زیادہ معاوضے والی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔