کراچی( اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ ایم کیو ایم کا ایم کیو ایم سے پہلے کا ہے، پاکستان ہمارے اجداد کی کوششوں سے بنا ، قائد اعظم کے پاکستان میں کراچی ملک کا دارلخلافہ تھا ہم اور ہمارے اجداد قائد کے پاکستان میں آئے تھے کسی نے ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا، ہمارا معاملہ بھٹو کے پاکستان سے شروع ہوتا ہے، 70ءکی دہائی تک کراچی سندھ کا حصہ نہیں تھا، پانچ ہزار سال کی تاریخ سے ملک کا کوئی تعلق نہیں جب بھی سندھ کی بات ہوگی ہے لوگ پانچ ہزار سال کی تاریخ لا کر رکھ دیتے ہیں، وزرائے اعلیٰ کے پاس بلدیاتی حکومت ختم کرنے کا اختیار سکتے ہوسکتا ہے، ایسی بد نصیب جمہوریت ہے جب وہ آتی ہے تو اصل جمہوریت چلی جاتی ہے ایسی جمہوریت کا فائدہ نہیں جسکے ثمرات عام آدمی کو نہ ملیں، اٹھارویں ترمیم کے وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی دو تہائی اکثریت تھی ایم کیو ایم نہیں بھی ہوتی تو یہ پاس ہونا تھی ایم کیو ایم اس لیے شامل ہوئی کہ دو نکات اس میں شامل کرانے تھے ایک آرٹیکل 140 اے کو شامل کرانا تاکہ مضبوط بلدیاتی نظام مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ ناظم آباد ریزیڈنٹس کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک وہاں بنایا جہاں ہم رہتے نہیں تھے ، اسکے لیے لاکھوں قربانیاں دی، جب دارلخلافہ کو تبدیل کیا گیا تو ون یونٹ تھا جب صوبے بحال کیے گئے تو کوئی ریفرنڈم نہیں ہوا تھا، کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی تھی کراچی کو کراچی سے پوچھے بغیر سندھ کا حصہ بنایا گیا تھا، ہجرت ارادی اور اختیاری ہوتی ہے پاکستان کس کا ہے یہ کوئی نہیں بتا سکتا ہمارے علاؤہ سرائیکی صوبہ جہاں وہ رہتے ہیں وہاں بن جائے گا، ہزارہ صوبہ بھی بن جائے گا، مہاجر کہاں صوبہ بنائیں گے پہلی بات ہم نے کھبی مہاجر یا کراچی صوبے کا مطالبہ نہیں رکھا ،صوبہ ایک انتظامی یونٹ ہے اس سے زیادہ اسکی حیثیت نہیں، دھرتی ماں پاکستان ہیں کوئی صوبہ نہیں ، صوبے اسکا حصہ ہیں۔کراچی کو سات ڈسٹرکٹ میں تقسیم کیا گیاہم نے تو شور نہیں مچایا کہ اسکو کیوں سات حصوں میں تقسیم کیا گیا، کراچی تو مقدس تھا ، قائد اعظم کا بنایا گیا دارالخلافہ تھا،ایم کیو ایم اس جاگیردارانہ نظام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔