حیدرآباد (رپورٹ/اے بی سومرو) مہنگے علاج سے ایک کروڑ 11لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ عالمی رپورٹ میں 2015میں صحت کوریج اشاریہ 40سے بڑھ کر 2023میں 56 ہونے،5کروڑ 10لاکھ افراد کا اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ علاج پر جیب سے ادائیگی کے باعث خاندانوں کو خوراک، تعلیم اور قرض کے مسائل کا سامنا،2030تک کوریج80تک پہنچانے کا ہدف مقرر۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں علاج مہنگا ہونے سے ایک کروڑ 11لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں علاج کے اخراجات عام لوگوں کیلئے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024ء میں ایک کروڑ 11لاکھ افراد علاج پر اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے کے باعث یومیہ 2.15امریکی ڈالر کی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے جبکہ ایک کروڑ 48 لاکھ سے زائد افراد کو علاج کے اخراجات برداشت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت کی ضروری سہولتوں کی کوریج کا اشاریہ 2015ء میں 40تھا جو 2023ء میں بڑھ کر56ہوگیا، اسی عرصے میں صحت کی سہولتوں کی کوریج میں شامل افراد کی تعداد 8کروڑ 70 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 80 لاکھ ہوگئی۔ اس طرح تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا تاہم صحت کی سہولتوں کی کوریج میں اضافے کا یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگوں کو مفت علاج مل رہا ہے، بہت سے خاندانوں کو اب بھی ادویات، طبی ٹیسٹ اور اسپتال کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں، علاج پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے بعض خاندانوں کے لئے خوراک، بچوں کی تعلیم اور گھر کے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔