• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینئر ٹیکس کنسلٹنٹ محمد اکرم خان کی گرفتاری پر شدید تشویش ہے، عرفان صدیقی ایڈووکیٹ

ملتان(سٹاف رپورٹر) سینئر ٹیکس کنسلٹنٹ محمد اکرم خان کی گرفتاری پر قانونی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ اینڈ ٹیکس ایڈوائزر عرفان صدیقی نے محمد اکرم خان کی فوری رہائی، گرفتاری کی بنیاد بننے والا تمام ریکارڈ ان کے وکیل کو فراہم کرنے اور گرفتاری کے فیصلے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے،عرفان صدیقی کے مطابق محمد اکرم خان کو ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) لاہور کی ٹیم نے ان کے دفتر سے گرفتار کیا،محمد اکرم خان ایف بی آر میں 35 سال خدمات انجام دینے کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور بعد ازاں ملتان میں بطور ٹیکس کنسلٹنٹ پریکٹس شروع کی،عرفان صدیقی نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق ان کے خلاف مبینہ الزام یہ ہے کہ ان کے دفتر کے آئی پی ایڈریس سے ایک ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم کی گئی، تاہم متعلقہ نوٹس میں مبینہ طور پر متعلقہ شخص کا نام، استعمال ہونے والی ڈیوائس، آئی آر آئی ایس یوزر آئی ڈی، ٹیکس دہندہ یا ٹیکس سال کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایڈریس انٹرنیٹ کنکشن کی شناخت کرتا ہے، کسی مخصوص شخص کی نہیں، جبکہ ٹیکس کنسلٹنٹس کے دفاتر سے روزانہ متعدد موکلین کے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جاتے ہیں، اس لیے صرف آئی پی ایڈریس کی بنیاد پر کسی ٹیکس پریکٹیشنر کے خلاف گرفتاری جیسا اقدام تشویش ناک ہے۔ عرفان صدیقی نے مطالبہ کیا کہ محمد اکرم خان کی گرفتاری سے متعلق تمام ریکارڈ ان کے وکیل کو فراہم کیا جائے، گرفتاری کے فیصلے کی غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے اور اگر کسی سطح پر اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کا تعین ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ملتان سے مزید