ڈیووس /اسلام آباد (خبرایجنسیاں)اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نےپاکستانیوں کے دورے کو بہترین تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملاقات ابراہم معاہدہ سے ممکن ہوئی جس پر دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہاکہ کوئی سرکاری نہیں NGOوفد اسرائیل گیا.
مسئلہ فلسطین پر موقف واضح ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کاکہناہےکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا،مولانا طاہر اشرفی نے اس تمام صورتحال پر وزیر اعظم شہباز شریف سے تحقیقات کروانے کیلئے کہا ،ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نےکہاہےکہ حکومت اسرائیل کو تسلیم، بھارت سے سمجھوتہ کرکے کشمیریوں کو بیچے گی۔
تفصیلات کےمطابق اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے وفد سے ملاقات کی تصدیق کی اور اسے حیرت انگیز تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات میں بڑی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئزک ہرزوگ نے یہ بات سوئٹرزلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے ڈیووس میں جاری اجلاس کے دوران خصوصی خطاب کے دوران کی۔
ابراہم معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کی جانب سے 2020میں توڑا گیا تھا جو اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کا سبب بنا.
انہوں نے ڈبلیو ای ایف کے صدر بورگ برینڈی نے سوال کیا کہ کیا ابراہم معاہدے سے آپ کو بہت فائدہ ہورہا ہے، آپ تعاون کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے اسے کس طرح دیکھیں گے؟صدر نے جواب دیا کہ میں آپ کو بتاں گا، آپ جانتے ہیں کہ ہم اسے زندگی کی ہر سطح پر دیکھ رہے ہیں، ہم صرف دوروں کی بات نہیں کر رہے ہیں، ہم معاشی، سائنسی اور جدت سمیت تمام سطح پر مفادات دیکھ رہے ہیں، ہم نے گزشتہ ہفتے دو وفود سے ملاقات کی جو بڑی تبدیلی کا اظہار ہے، ایک گروپ مراکش سے تعلق رکھنے والے نوجوان رائے سازوں کا تھا جو فیس بک پر ایک اسرائیلی گروپ کے ساتھ منسلک ہیں.
اگلے روز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی جو امریکا میں رہائش پذیر ہیں، ان کے ہمراہ ملک اور خطے کے دیگر افراد بھی موجود تھے، میرے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا، ہمارے پاس اسرائیل میں پاکستانی رہنمائوں کا کوئی گروپ نہیں اور یہ سب ابراہم معاہدے سے ممکن ہوا یعنی یہودی اور مسلمان خطے میں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
ادھر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ جس وفد کے دورے پر بحث کی جاری ہے اس کا اہتمام ایک غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جس کا پاکستان میں کوئی دفتر نہیں ،مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا موقف واضح اور غیر مبہم ہے اور اس حوالے سے ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی مستقل حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 1967سے پہلے کی سرحدوں کیساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
ایک پیغام میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے کسی سرکاری یا نیم سرکاری وفد نے ملاقات نہیں کی، اس وفد کے شرکاء پاکستانی نژاد امریکی شہری تھے جو اپنی وضاحت کر چکے ہیں، حکومت پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور وہ ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، ہماری تمام تر ہمدردیاں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کیساتھ ہیں۔
ایک پیغام میں سربراہ پاکستان علما کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اسرائیلی صدر کے بیان پر فوری تحقیقات کا حکم دیں، اجازت دینے اور جانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، پاکستانی عوام اور ریاست کا موقف واضح ہے کہ ہمارا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اسرائیل کو تسلیم، بھارت سے سمجھوتا کرکے کشمیریوں کو بیچے گی.
انہوں نے کہا کہ ایک تصویرآئی ہے کہ ایک پاکستانی وفد پہلی بار اسرئیل گیا ہے، جس میں ایک پاکستانی ٹیلی ویژن میں کام کرنے والا تنخواہ دار بھی شامل ہے، یہ حکومت کشمیریوں کی قربانی کو بیچے گی، بھارت سے کشمیریوں کے خون پر سمجھوتا کرے گی، جب امریکیوں کے غلام اوپر بیٹھ جائیں گے تو وہ کام کریں گے جو امریکا سے حکم آئے گا۔