کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں جھمپیر اور گھارو میں 33 منصوبے ہوا سے 1835 میگا واٹ م بجلی فراہم کر رہے ہیںوِنڈ سو لوشن فیکٹری پاکستان میں ونڈ ٹربائن کے اسپیئر پارٹس اور آلات کو پاکستان کے اپنے مقامی ہنر سے مرمت کرنے کی صلاحیت لے کر آیا ہے یہ سروس بلاشبہ آئی پی پیز کو ان کے مواد اور آلات کی لاگت کو کم کرنے میں فائدہ دے گییہ بات انہوں نے پیر کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں گولڈ ونڈ سلوشن فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر مہمان اعزازی چین کے قونصل جنرل مسٹر یانگ گوان گیان ,ڈائرکٹر گولڈ ونڈ سلوشن مسٹر یانگ جین یونگ ، سابق وائس چانسلر مہران یونیورسٹی اسلم عقیلی، این ای ڈی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر، گولڈ ونڈ پاکستان کے عدنان ٹپال، مرزا محمد عمر اور دیگر مشاہیر بھی موجود تھے امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان میں گولڈ وِنڈ چائنا کی طرف سے ونڈ ٹربائن ٹیکنالوجی میں تکنیکی حل کے اس شاندار سیشن کا افتتاح کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے،سولوشن فیکٹری کے ہونے سے، نہ صرف یہ کہ منصوبوں میں لاگت کم ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے ،انہوں نے کہا کہ سندھ انرجی ڈیپارٹمنٹ 2013 میں قائم کیا گیا تھا اور گزشتہ 10 سالوں کے دوران ملک میں توانائی کے مسلسل بحران پر قابو پانے کے لیے ہم نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں تھر کے کوئلے کی ترقی کے لیے دیرپا کوششیں رنگ لائیں اور آج تقریباً 2 گیگاواٹ کے 3 منصوبے کام کر رہے ہیں اور کچھ منصوبے پائپ لائن میں ہیں دریں اثناء امتیاز شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہاکہ ملک بالخصوص سندھ میں گیس بحران شدت اختیار کرچکا ہے گیس بحران کے حوالے سے ہم آواز اٹھاتے رہیں گے امید ہے وزیر اعظم اس کا نوٹس لیں گے ملک میں سب سے زیادہ گیس کی پیداوار سندھ میں ہے اس کے باوجود ہمیں ضرورت کے تحت گیس نہیں مل رہی سندھ حکومت نے وفاق کے سامنے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نوری آباد پاور پلانٹ سب سے سستی بجلی بجلی پیدا کرتا ہے۔