کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکےپروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ اس وقت تک یہ لوگ نامعلوم ہی ہیں ہم اس وقت انہیں ایگزیکٹ شناخت کا تعین نہیں کرسکتے تفتیش ہورہی ہے، ہم سمجھتے ہیں یہ اُن کی طرف سے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی،اُڑان پاکستان سے متعلق اوور سیز انویسٹر چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیف ایگزیکٹو عبدالعلیم نے کہا کہ کافی عرصے بعد پلان سامنے آیا ہے ،ٹیکس ٹو جی ڈی پی پلان میں دیا ہے،وائس چیئرمین پاشا راحیل اقبال نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری بہت اہم ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا چالیس فیصد گروتھ ریٹ ہے اگر اسی گروتھ ریٹ پر رہتے ہیں تو پانچ سے دس سال میں دس سے چودہ ارب ڈالر پر پہنچ سکتے ہیں،میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ یکم جنوری کو معاہدے کے بعد کرم میں امن قائم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی اسے آج کرم میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی پر ہونے والی فائرنگ کے افسوسناک واقعہ سے شدید دھچکا لگا ہے۔خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ڈی سی اور زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے سب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔امن معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے فریقین نے غور و فکر کے بعد دستخط کیے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے امن معاہدے کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا ہے۔ اس واقعہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو امداد جانی تھیں اس میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ اُن کی طرف سے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی ۔ جن لوگوں نے حملہ کیا ہے اس وقت تک یہ لوگ نامعلوم ہی ہیں ہم اس وقت انہیں ایگزیکٹ شناخت کا تعین نہیں کرسکتے تفتیش ہورہی ہے لوکل کمیونٹی میں پتہ چلانا مشکل کام نہیں ہے جو بھی اس میں ملوث ہیں ان سب کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ روایتی طریقہ بھی اپنائیں گے اور معاہدے کے فریقین کو بلایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آپ نے امن کی ضمانت دی تھی تو یہ واقعہ کیوں ہوا وہ یقیناً اس کی وضاحت کریں گے۔