اسلام آباد(نمائندہ جنگ )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کرتےہوئے کہا ہے کہ پر امید ہوں کہ آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی‘ معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں‘ حکومت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے‘ آئندہ چند ماہ میں بجلی کے نرخوں میں خاطرخواہ کمی ہو گی‘ میرا بس چلے تو ٹیکس ریٹ 15فیصد کر دوں لیکن اس وقت آئی ایم ایف کی مجبوری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آخری ہو گا‘حکومتی اخراجات کم کرنے کے لئے بہت سے سرکاری ادارے بند کئے جا رہے ہیں‘حکومت کی محنت رنگ لارہی ہے ‘ملک کی اقتصادی شرح نمو کا سفر شروع ہوا چاہتا ہے‘پی آئی اےکی نجکاری کے حوالے سے ایک نئی کوشش کی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو جاری بیان میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے‘پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا‘کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے ۔ دریں اثناءپیر کو وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے نئے اور سکس اسٹار ہوٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہناتھاکہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے موجودہ حکومت دن رات جو محنت کررہی ہے وہ رنگ لارہی ہے، مہنگائی کی شرح5فیصد سے کم ہو چکی ہے‘برآمدات بڑھ رہی ہیں‘آئی ٹی کی برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو رہاہے ۔ زراعت ، آئی ٹی ، صنعتوں اور مائنزاینڈ منرلز کے شعبو ں میں ہمیں مزید ترقی کرنی ہے‘جب تک بجلی کی قیمت کم نہیں ہو گی تب تک صنعتیں ، زراعت اور برآمدات ترقی نہیں کر سکتیں۔