اسلام آباد(نمائندہ جنگ) ایف بی آر نے پیر کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 97.5 فیصد جائیدادوں کے لین دین کی مالیت 10ملین(ایک کروڑ) روپے سے کم ہے، اور صرف 2.5فیصد امیر افراد ایف بی آر کے ریڈار پر ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ ایف بی آر کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال نے کہا کہ "ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024" کا اثر صرف 2.5 فیصد افراد پر ہوگا۔ تقریباً 95 فیصد گھرانوں پر اس مجوزہ قانون سازی کے تحت پابندیاں اثر انداز نہیں ہوں گی، بلکہ ان اقدامات سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا، کیونکہ پانچ فیصد کیٹیگری میں تقریباً 1.6 ٹریلین روپے کی کمی پائی جاتی ہے جبکہ باقی 90-95 فیصد کیٹیگری میں یہ کمی صرف 140ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اپنی سرمایہ کاری کے ذرائع ظاہر کرنا ہوں گے، تاہم ایف بی آر جائیداد کے لین دین پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی کوشش کر رہا ہے۔گزشتہ سال 1.695 ملین جائیدادوں کے لین دین کیے گئے جن میں سے 93 فیصد کی مالیت 5 ملین روپے سے کم تھی۔ ان میں سے 3.8 فیصد لین دین کی مالیت 1 کروڑ روپے سے کم تھی۔ایف بی آر کے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ 2023-24کے دوران ایسی غیر منقولہ جائیدادوں کے لین دین جن پر قابلِ ٹیکس رقم 50 ملین روپے سے زیادہ ہو، ان کی تعداد 3,250 (کل لین دین کا 0.2فیصد) رہی۔دوسری جانب، 2023-24 کے دوران ایسی غیر منقولہ جائیدادوں کے لین دین جن پر قابلِ ٹیکس رقم 5 ملین روپے تک ہو، ان کی تعداد 1,589,328(کل لین دین کا 93.7 فیصد) رہی۔