• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ، زیلنسکی تکرار، عالمی رہنما یوکرین کی حمایت میں بول پڑے، امریکی صدر نے مسخرے کو زوردار تھپڑ مارا، روس

پیرس (اے ایف پی،جنگ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی ہم منصب ولادومیر زیلنسکی کے درمیان تکرار کے بعد عالمی رہنما یوکرین کی حمایت میںبول پڑے ، روس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے مسخرے کو زور دار تھپڑ مارا ہے ، یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کیساتھ اوول آفس میں لفظی جنگ کے بعد معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ممالک کیلئے ٹھیک نہیں ، امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر اور اس کے عوام کا احترام کرتے ہیں ، امریکا اور یورپ ہمارا دوست ، روس اور پیوٹن ہمارے دشمن ہیں، انہوں نے یوکرین کیلئےامریکی حمایت کو اہم قرار دیا، یوکرینی صدر نے کہاکہ وہ حفاظتی ضمانتوں کی جانب پہلے قدم کے طور پر امریکا کیساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے اب بھی تیار ہیں، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی روکنے پر غور کررہے ہیں ، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے مطالبہ کیا ہے کہ زیلنسکی صدر ٹرمپ کا وقت ضائع کرنے پر معافی مانگیں ،مارکو روبیو نے زور دے کر کہا کہ دنیا کا واحد لیڈر جو اس جنگ کو ختم کر وا سکتا ہے وہ ٹرمپ ہے۔ یوکرینی صدرنے کہا وہ کسی قسم کی معافی کے پابندنہیں ، خاص طور پر اس لئے کہ انہوں نے کوئی ایسی غلطی نہیں کی ،دوسری جانب عالمی و یورپی رہنماؤں نے یوکرینی صدر کی حمایت میں بیانات جاری کرتے ہوئے ان کیساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے،کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر،یورپی یونین کے سربراہوں ارسولا وان ڈیر لیین اور انتونیو کوسٹا،بلاک کے اعلیٰ سفارت کار کاجا کالس،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون،جرمن رہنما اور ممکنہ چانسلر فریڈرش مارس،سبکدوش ہونے والے چانسلر اولاف شولز ،ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف،پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک اورہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یوکرین کےلئے غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اظہار کیا اوریوکرین کی جنگ میں روس کو جارح قرار دیا، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ زیلنسکی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں، ناروے کے وزیر اعظم یوناس گاہر اسٹوئرےنے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں ناروے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔فرانسیسی صدر میکرون نے یوکرینی اور امریکی ہم منصبوں کو ٹیلی فون کرکے کہا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا، احترام کیساتھ ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کا کہنا ہے کہ امریکا، یوکرین اور یورپ کو یوکرین میں دیرپا قیام امن کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔مارک روٹے نے کہا کہ انہوں نے یوکرینی صدر سے کہا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔روس نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر کا دورہ امریکا مکمل ناکام رہا ،روس کے سابق صدراور روسی سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدودوف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے زیلنسکی کو زور تھپڑا مارا ہے ، ان کے سامنے یہ سچ بولا گیا ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ چاہتے ہیں ، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے زیلنسکی کو نیو نازی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واشنگٹن میں قیام کے دوران اپنے غضب ناک رویے سے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایک غیر ذمہ دار جنگجو کے طور پر عالمی برادری کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں، ماریہ زاخارووا نے کہا کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ ٹرمپ اور وینس نے اوول آفس کے تصادم کے دوران زیلنسکی کو مارنے سے خود کو روک لیا۔ماسکو نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں مزید دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے ، یوکرینی کے حکام نے کہا ہے کہ روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 19 زخمی ہو گئے ہیں، یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے ٹین ڈائوننگ اسٹریٹ میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کی ہے ، اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے یوکرین کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کا خیر مقدم کیا ،برطانوی وزیراعظم نے انہیں گلے لگایا اور تھپکی بھی دی ، یوکرینی صدر یورپی اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتوںکیلئے لندن پہنچے ہیں، ان کے ترجمان کےمطابق زیلنسکی شاہ چارلس سوئم کیساتھ بھی ملاقا ت کریں گے۔

اہم خبریں سے مزید