اسلام آباد(مہتاب حیدر)ایف بی آر کے زیرِانتظام بننے والا بے نامی ایڈ جیوڈیکیٹنگ اتھارٹی (BAA) گزشتہ گیارہ ماہ سے غیرفعال ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھی جا رہی ہے کہ ملک کی بالائی ایک فیصد بااثر اشرافیہ کے پاس قومی دولت کا 22 فیصد حصہ موجود ہے۔باوثوق ذرائع نے "دی نیوز" کو تصدیق کی کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران BAA کے تین ممبران کی تعیناتی کے لیے کئی بار سمریاں ارسال کی گئیں، اعتراضات کے بعد واپس آئیں، اور پھر دوبارہ بھجوائی گئیں، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے فائلیں دبتی رہیں۔ وزیر اعظم نے اصولی طور پر ان تعیناتیوں کی منظوری دے دی تھی، تاہم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ معاملہ 11 ماہ میں ایک بار بھی ایجنڈے پر نہیں آ سکا۔اگرچہ ایف بی آر کا اینٹی بے نامی انیشی ایٹو (ABI) کسی حد تک سرگرم رہا، لیکن چونکہ ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی غیرفعال ہے، اس لیے ایف بی آر کسی بھی ریفرنس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکا۔یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں آئی ایم ایف کا مشن پاکستان آیا اور گورننس و انسدادِ کرپشن پر اپنا تجزیاتی جائزہ مکمل کر کے واپس گیا۔ حکومتی حلقوں میں بھی کرپشن کے خلاف بیانات دیے جا رہے ہیں، مگر اینٹی بے نامی اقدامات جان بوجھ کر سرد خانے کی نذر کر دیے گئے ہیں۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ سمری بھیجی گئی، اعتراض لگا، واپس آئی، اور پھر وزارتوں کی فائلوں میں دبادی گئی—مگر 11 ماہ میں کوئی تعیناتی نہ ہو سکی۔BAA کی خالی آسامیوں پر تقرری کے معاملے پر کبھی سوال نہیں اٹھا، کیونکہ سیاسی جماعتیں بذات خود اس کمزور ادارے کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔