کراچی (اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے سرکاری ملازمین پر تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 30 اگست تک توسیع کردی۔ کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو سرکاری ملازمین پر تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں پولیس نے ریمانڈ مکمل ہونے پر فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا۔ وقار عباسی ایڈووکیٹ نے ملزمان کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرادیا۔ پراسکیوشن نے مزید دو دن کا ریمانڈ مانگ لیا۔ عدالت نے ملزمان سے استفسار کیا کہ آپ کے وکلاء موجود ہیں۔ فرحان غنی نے کہا کہ میرے وکلاء موجود ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں کتنے لوگوں کے 161 کے بیانات قلمبندکئے گئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کیا پروگریس کی ہیں آپ نے۔ 3 دن میں کیا کروگے ابھی تک تو کچھ نہیں کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں سراغ رساں کتے ہیں یا مرگئے وہ؟ عدالت نے تفتیشی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سراغ رساں کتے ہیں یا کچھ اور ہیں وہ چرس پکڑنا جانتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہے سی آئی اے، ایس آئی یو سب مرگئے ہیں؟ آپ لوگوں کو صرف عام آدمی کو تنگ کرنا آتا ہے۔ کیا آپ ڈی ایس پی بن جائے گے اس کیس کے بعد۔ دوران سماعت اجرک والی نمبر پلیٹ کا ذکر آیا۔