• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیز فائر کے دوران دراندازی کی کوشش ناکام، گل بہادر گروپ کے 100 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان نے کہا ہے کہ سیز فائر کے دوران افغانستان سے خوارج کے متعدد حملے ناکام بنادیئے گئے، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حافظ گل بہادر گروپ کیخلاف ہدفی اور انٹیلی بنیاد پرکارروائی کی گئی، افغانستان میں عام شہری نشانہ نہیں بنے،حملوں میں گل بہادر گروپ کے 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوگئے ، ان کے مطابق یہ جنگجو جمعے کےروز خودکش حملے کے ذمہ دار تھے جس میں 7 پاکستانی فوجی شہید ہوگئے تھے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق 17اور 18اکتوبر کی درمیانی شب ایک انتہائی ٹارگٹڈ انداز میں افغانستان کے علاقے پکتیکا میں موجود خوارج گل بہادر گروپ کے دہشت گرد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، انٹیلی جنس ذرائع کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان موثر اسٹرائیکس میں خوارج گل بہادر گروپ کے 70سے زائد خوارج جن میں اہم سرغنہ بھی شامل تھے جہنم واصل ہوئے، سیکورٹی حکام کے مطابق خوارج گل بہادر گروپ پاکستان ميں دہشت گردی کی بڑی اور متعدد وارداتوں ميں ملوث ہے اور افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردانا حملوں میں ملوث ہے، سترہ اکتوبر کو خادی، شمالی وزيرستان ميں بھی اسی گروپ نے ناکام VBIED حملہ کیا، حملے ميں 3 خواتين،2 بچے اور ایک جوان شہيد ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع کے سرحدی علاقوں میں خوارج گل بہادر گروپ کے تصدیق شدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ہفتہ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 48 گھنٹے طویل سیز فائر کے دوران افغانستان سے کام کرنے والے خوارج نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی جس کا سیکورٹی فورسز نے موثر طریقے سے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی موثر جوابی کارروائی کے دوران 100سے زائد خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔ خوارج ایکس گل بہادر گروپ نے شمالی وزیرستان میں گاڑی پر بھی آئی ای ڈی حملہ کیا جس میں شہریوں اور ایک سپاہی نے شہادت کو گلے لگایا اور متعدد زخمی ہوئے۔گل بہادر گروپ کے خوارج کے خلاف گزشتہ رات درست اور ہدفی کارروائی کی گئی۔ تصدیق شدہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ان کارروائیوں میں کم از کم 60 سے 70 خوارج اور ان کی قیادت کو جہنم واصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں اور دعوے غلط ہیں اور ان کا مقصد افغانستان کے اندر سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت پیدا کرنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید