تحریم فاطمہ
بعض تہذیبیں مِٹنے کے لیےجنم لیتی ہیں اور کچھ رسوم و رواج ایسے ہیں، جنہیں مذہب، غیرت یا روایات کا لبادہ پہنا کر نسل در نسل ظُلم ڈھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے مُلک کے بعض حصّوں میں موخرالذکر چلن عام ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے کچھ قبائلی، دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں آج بھی عورت کو محض ایک ’’شے‘‘، ’’مٹی کی مُورت‘‘ سمجھا جاتا ہے، جسے ہر حال میں صرف اس لیے چُپ رہنا ہے کہ وہ کسی کی بیٹی، بہن یا بیوی ہے۔
ان علاقوں میں آج بھی مَرد ہی عورت کی تعلیم اور شادی بیاہ سمیت زندگی گزارنے کے ڈھنگ حتیٰ کہ اس کے جینے، مَرنے تک کا فیصلہ کرتا ہے۔ آخر یہ کیسا سماج ہے کہ جہاں بیٹی کی پیدائش ہی کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی ننّھی کلی کو ماں کی گود میں کِھلنے سے پہلے ہی مخالف قبیلے سے بدلہ چُکانے کے لیے کسی بوڑھے مَرد کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے۔
جہاں لڑکی کے تعلیم حاصل کرنے کو بےحیائی اور اس کی جائز خواہشات کو بغاوت گردانا جاتا ہے۔ اگر لڑکی کسی کی مرضی کے خلاف مُسکرا بھی لے، تو خاندان کی عزّت خطرے میں پڑ جاتی ہے، کجا کہ وہ کسی سے محبّت ہی کر بیٹھے، تب تو اس سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جاتا ہے۔
واضح رہے، یہ کوئی افسانوی باتیں نہیں، حقائق کی تلخ زمین پر اُگنے والے اُن زخموں کا نوحہ ہے، جو صرف لڑکیوں ہی کے حصّے میں آتے ہیں۔ کیا بیٹیوں کا خواب دیکھنا جُرم ہے، کیا اپنے فیصلے خُود کرنے کا حق مانگنا گناہ ہے؟ اور کیا کسی سے محبّت اتنا بڑا قصور ہے کہ اُسے موت ہی کے گھاٹ اتار دیا جائے۔
ہمارے قبائلی معاشروں میں لڑکیوں کی زندگی اکثر ’’سودے بازی‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ ’’ونی‘‘، ’’سوارا‘‘ جیسی جاہلانہ رسوم کے نام پر اُنہیں دشمنیاں ختم کرنے کے لیے ’’قربانی کا بکرا‘‘ بنا دیا جاتا ہے اور اگر کہیں، کوئی غلطی سے اِن زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کرلیتی ہے، تو پھر اُس کی لاش کسی ندی، کھیت یا کسی قبرستان کی گُم نام قبر ہی میں ملتی ہے۔
ایسی بدنصیب لڑکیاں، عُمر بھر اپنے گھروں کی چار دیواری میں قید، بس دبی دبی سسکیاں ہی لیتی رہتی ہیں کہ اُنہیں خود پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اور اس ضمن میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ’’بیٹی کے لیے کوئی رعایت، کوئی معافی نہیں۔‘‘
بیٹا چاہے نشہ کرے، چوری چکاری، لوٹ مار کر کے آجائے یا پوری زندگی ہی سماجی و اخلاقی حدود پامال کرتا رہے، والدین اُس کے ہر گناہ کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ’’مَرد ہے، مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘ جب کہ بیٹی کو اسکول، کالج سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوجائے، تو وہ ہزارہا سوالات، شکوک وشبہات کی زد میں آجاتی ہے۔
خواب دیکھنا یا اُن کی تعبیر تلاشنا تو ناقابلِ معافی جرم ہے۔ کسی کو پردے کے پیچھے سے بھی دیکھ لے، تو فوراً ’’خاندان کی عزّت‘‘ خطرے میں پڑجاتی ہے۔ بےشرمی، بےحیائی کے طعنے سُننےکوملتے ہیں، نظربند کردیا جاتا ہے، تشدّد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ بات کچھ بڑھ جائے، تو غیرت کے نام پر قتل بھی کردیا جاتا ہے۔
آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ بیٹا قاتل ہو کر بھی قابلِ فخر ہے اور بیٹی محض خواب دیکھے، تو گناہ گار؟ یاد رہے، غیرت کے نام پر قتل صرف ایک ظاہری ہستی کا خاتمہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ خوابوں، اُمیدوں اوربیش قیمت احساسات و جذبات کے حامل ایک پورے وجود کا قتل ہوتا ہے۔ نبیٔ پاک ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، اُن کو تعلیم دی، اُن کا نکاح کیا اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا، تو وہ جنّت کا حق دار ہے۔‘‘
مگر ہم فرمانِ نبویؐ کے برعکس بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ اُنہیں خاموش رہنا سکھاتے ہیں، اطاعت کا پابند بناتے ہیں اور آخر میں اُنہیں ہی مجرم ٹھہرا دیتے ہیں۔ تاہم، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خُود سے یہ سوال کریں کہ کیا عورت کا خون کم سُرخ ہوتا ہے؟ کیا اُس کے آنسوئوں کی نمی، نمی نہیں ہوتی؟ کیا اُس کے سینے میں موجود دل دھڑکتا نہیں اور کیا اُسےاپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں؟
اب روایات کی آڑ میں ظُلم کی پردہ پوشی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ خُود ساختہ غیرت کے بُت پاش پاش ہوجانے چاہئیں۔ ہمیں قبائلی نظام کے اندر سے اُٹھتی چیخ و پکار کو سُننا ہوگا اور ایک ایسا سماج تشکیل دینا ہوگا، جہاں بیٹوں کی مانند بیٹیوں کو بھی ایک باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔