ثروت اقبال، کراچی
اِن دنوں صُبح سے رات تک بیش تر افراد کی نظریں موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹی وی اسکرین ہی پر جمی رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے، تمام تر معمولات کو اِن جدید آلات نے اپنا یرغمال بنا لیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہم بھی اِسی بہاؤ میں بہہ رہے تھے۔ دن بَھر آن لائن رہنا، سوشل میڈیا پر بےمعنی اسکرولنگ کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن چُکا تھا۔
پہلے پہل یہ سب کچھ معمولی دکھائی دیتا تھا، لیکن پھر بتدریج جسم تھکاوٹ کا شکار رہنے لگا، آنکھیں جلنے لگیں اور نیند بھی متاثر ہونے لگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ موبائل فون کی لَت کے نتیجے میں دل ہمہ وقت بوجھل و مضطرب اور دماغ الجھن کا شکار رہنے لگا اور بظاہر مصروف رہنے کے باوجود بھی دن کے اختتام پر کاموں کی تکمیل اور مقصدیت کا احساس نہ ہوتا۔
تب ہم نے اخبارات وجرائد پڑھنے اور کہانیاں، مضامین لکھنے کے لیے بھی موبائل فون کا استعمال شروع کردیا تھا۔ نتیجتاً، بینائی بھی کم زور ہونے لگی۔ پھر ایک روز مسلسل جسمانی و ذہنی تھکاوٹ اور بے چینی کے سبب طبیعت شدید خراب ہوگئی، تو ایک ماہر معالج سے رجوع کیا۔
طبّی معائنے اورعلامات جاننے کے بعد ڈاکٹر نےجو کچھ بتایا، وہ تو جیسے دل و دماغ پر نقش ہوگیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’اسکرین آپ کی زندگی نگل رہی ہے۔ اپنا اسکرین ٹائم 80 فی صد کم کریں۔ کوئی ایسا مشغلہ اپنائیں یا ہُنرسیکھیں، جس سے آپ کو کوئی ذہنی و جسمانی فائدہ حاصل ہو۔‘‘ اور یوں معالج کی تشخیص اور طریقۂ علاج ہماری زندگی کا نیا موڑ ثابت ہوا۔
کلینک سے گھر کی جانب جاتے ہوئے ہی خُود سے یہ سوال کیا کہ ’’کیا ہم واقعی اسکرین کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں؟‘‘ اور اُس موقعے پر احساس ہوا کہ موبائل فون کا استعمال عادت نہیں، لت بن چُکی ہے، جس نے ہمیں اپنا یرغمال بنا لیا ہے۔ خیر، اسکرین سے مکمل نجات حاصل کرنے کی بجائے اس سےکماحقہ فائدہ اُٹھانے کا عزم کیا اور یوٹیوب کھول کر مختلف مفید مشاغل تلاش کرنا شروع کردیے۔
پینٹنگ، کوکنگ، دست کاری اور منہدی آرٹ سمیت دیگر ویڈیوز سے ہوتے ہوئے ہماری نظر ’’Learn Crochet Beginner Friendly‘‘ کے ٹائٹل سے موجود ایک ویڈیو پر پڑی۔ اس ویڈیو میں ایک خاتون نہایت نرمی سے باریک کانٹے کی سلائی کی مدد سے رنگ برنگے اُونی دھاگے کو ترتیب دے رہی تھیں اور پھر کچھ ہی دیر میں ایک پھول سا پیٹرن اُبھر آیا، جب کہ اس کے علاوہ وہ کروشیے کی دیگر خُوب صُورت چیزیں بنانا بھی سِکھا رہی تھیں۔
چند روز تک کروشیے کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہم نے خُود یہ ہُنر سیکھنے کا فیصلہ کیا اور بازار سے اُون اور سلائی لاکر یوٹیوب سے سیکھنا شروع کردیا۔ ابتدا میں تو گرہیں لگاتے ہوئے ہاتھ لرزتے تھے، گرہیں الجھتی تھیں، لیکن ہمّت نہ ہاری۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نیا ہُنر سیکھنے کے طویل عمل سے گزرنے کے باوجود ہمیں تھکاوٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ گرچہ ابتدا میں پیٹرنز سمجھ نہیں آ رہے تھے، لیکن ہمیں ہر روز ایک نیا تجربہ ضرور حاصل ہو رہا تھا اور پھر بتدریج ہمارا ہاتھ صاف ہونے لگا، کام میں بھی تیزی آتی گئی، یہاں تک کہ ہم ذہنی و جسمانی طور پر خُود کو پہلے سے کہیں زیادہ ترو تازہ محسوس کرنے لگے۔
جب پہلا کوسٹر مکمل ہوا، تودل خوشی سے جھوم اُٹھا۔ ایک طویل عرصے بعد اپنے ہاتھوں سے کوئی نئی چیز تیار کرنے کے بعد طمانیت اور تکمیل کا بھرپور احساس ہوا۔ پھر ہم نے ہینڈ بیگ، ٹیبل میٹ، پینسل کیس، کی چینز اور چھوٹے چھوٹے گفٹ آئٹمز تیار کرنےشروع کیے۔
ناقابلِ یقین سی بات تھی، مگر ہمارے ہاتھ وہ اشیاء تیار کر رہے ہیں، جنہیں ہم کبھی صرف بازاروں ہی میں دیکھا کرتے تھے، جب کہ اس سے بھی زیادہ خوش گوار حیرت ہمیں اُس وقت ہوئی، جب ہماری دست کاری کی بدولت بنی اشیاء کی اہلِ خانہ اور سہیلیوں نے دل کھول کر تعریف کی اور کچھ نے اُنہیں خریدنے کی پیش کش بھی کردی۔ بعدازاں، کروشیے سے مختلف اشیاء تیار کرنے کے اس ہُنر نے نہ صرف ہمیں اسکرین سے نجات دلادی، بلکہ ہمارے لیے ذہنی سکون کا ایک دروازہ بھی کھول دیا۔
یاد رہے، یہ کام مراقبے کی مانند ہےکہ ہر سلائی، ہر گرہ اور ہر دھاگا ایک نئی امید بُنتا ہے، جب کہ اس ضمن میں سائنس کہتی ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ہاتھوں کو متحرک رکھتی ہیں، بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے دماغ کی کارکردگی بہتر بناتی اور سب سے بڑھ کر زندگی کو ایک مقصد دیتی ہیں۔
علاوہ ازیں، یہ فن برداشت اور مسرّت کا احساس بھی عطا کرتا ہے، جو سوشل میڈیا پر ملنے والے لائیکس سےکہیں زیادہ رُوح افزا اور فرحت بخش ہے۔ اور پھر اِسی ہُنر نے ہمیں خُود سے بھی روشناس کروایا۔
ہمیں خُود اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہوا۔ ہر روز کچھ نیا سیکھنے، بنانے کا شوق و جستجو پیدا ہوگئی۔ ہم یہاں یہ بھی بتاتےچلیں، کروشیے کا ہُنر صرف گھریلو خواتین کے لیے مخصوص نہیں، دُنیا بھر میں ہر عُمر اور صنف سے تعلق رکھنے والے افراد نِٹنگ سے جُڑے ہوئے ہیں۔
جب ہم نے اس ضمن میں انٹرنیٹ پر تلاش شروع کی، تو انکشاف ہوا کہ آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ میں تو 6 سے7 سال کی عُمر کے بچّے نِٹنگ سیکھنا شروع کردیتے ہیں اور ان ممالک میں یہ فن اسکولز کے لازمی مضمون کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ جاپان اور جنوبی کوریا کی جامعات میں ’’کریئیٹو تھراپی‘‘ کے کورسز میں کروشیے کا ہُنر شامل ہے۔
اسی طرح افریقا میں خواتین پورے گائوں کے لیے کروشیے کے رنگ برنگے ملبوسات اور دیگر اشیاء تیار کرتی ہیں، جب کہ امریکا اور یورپ میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے افراد کے ہاتھوں تیار کیے گئے نِٹ ویئرز نہ صرف فروخت ہوتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا گروپس میں اُنہیں بھرپور پذیرائی بھی ملتی ہے۔
پاکستان اور بھارت میں خواتین گھروں میں بیٹھ کرکروشیے کا کام سیکھتی ہیں، جب کہ چترال او اندرونِ سندھ کی خواتین نِٹنگ کا کاروبار بھی چلا رہی ہیں۔ اس سےاندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فن نہ صرف مشغلہ ہے بلکہ ہزاروں خواتین کے لیے خُودمختاری اور آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ یعنی یہ فن عُمر دیکھتا ہے، نہ وقت بلکہ صرف لگن، صبر اور تخلیقیت کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر ہماری طرح آپ بھی اسکرین کی لت سے تنگ آچُکے ہیں، تو کروشیا ورک کی ایک ویڈیو کھول کر دیکھیں۔ پھر پہلی گانٹھ، گرہ لگائیں اور دیکھیں،یہ عمل کیسےآپ کی زندگی میں ایک شان دار تبدیلی لاتا ہے۔ واضح رہے، اسکرین کی چمک دمک عارضی ہے، جب کہ آپ کے اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی ہر چیز آپ کے دل کو برسوں توانا رکھتی ہے۔
اگر آپ کو کروشیے سے دل چسپی نہیں، تو پھر کوئی ایسا ہُنر سیکھ لیں، جو آپ کو آپ کی ذات سے جوڑ دے، لیکن ایک بار کوشش ضرور کریں۔ یوں بھی زندگی بس یوں ہی بےمقصد جیتے چلےجانے کا نہیں، بلکہ کچھ کر دکھانے کا نام ہے۔