• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام ہر سال ایک کھرب روپے کی ادویہ پھانک جاتے ہیں

ضروریاتِ زندگی تک عدم رسائی، تعلیمی سہولتوں کا فقدان، غیرت کے نام پر قتل اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں جہاں پاکستان کا شمار سرِفہرست ممالک میں ہوتا ہے، وہیں اب ادویہ کی فی کس کھپت میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پوری دنیا میں ادویہ کے فی کس استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزرے سال، یعنی 2025ء میں دنیا میں روزانہ ادویہ کی 3کھرب خوراکیں (Doses) استعمال کی گئیں، جو کہ2028ء میں بڑھ کر 4کھرب تک پہنچ جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں اور کلینکس جانے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے سال میں200 دن ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا، تو اب234دن جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ اب زیادہ بیمار پڑ رہے ہیں اور وہ وقت دُور نہیں، جب سارا سال ہی اسپتالوں کے چکر لگاتے رہیں گے۔

اگر پاکستان کی بات کریں، تو وہ وقت بھی آنے والا ہے، جب مُلکی معیشت کی بدحالی، صحت کے لیے برائے نام بجٹ اور طبّی سہولتوں کے ناقص انفرا اسٹرکچر کی وجہ سے پاکستان امریکا سے بھی آگے نکل جائے گا، جہاں اِس وقت پوری دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ ادویہ استعمال کی جاتی ہے۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق، امریکا میں 2023ء میں ہر شخص نے اوسطاً1500 ڈالرز سے زائد ادویہ پر خرچ کیے۔ اِسی طرح جاپان اور مغربی یورپ میں، دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ادویہ پر دُگنا خرچ کیا جاتا ہے۔ 

نیز، جن ممالک کی فی کس آمدنی زیادہ ہے، وہاں ادویہ پر بھی زیادہ اخراجات دیکھے گئے ہیں۔ لیکن پاکستان اُن معددے چند ممالک میں سے ہے، جہاں فی کس آمدنی بہت کم ہونے کے باوجود ادویہ پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ 

مستقبل میں جن ممالک میں بہت زیادہ ادویہ استعمال کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اُن میں چین سرِفہرست ہے اور جن بیماریوں کے لیے ادویہ کا استعمال بڑھنے کا اندازہ ہے، اُن میں شوگر، کولیسٹرول اور بلڈپریشر کے امراض شامل ہیں۔ادویہ کے بڑھتے استعمال نے دنیا میں فارماسوٹیکل مارکیٹ کو بھی بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے، جس کا کاروباری حجم 1470 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔ 

اندازہ ہے کہ 2027ء میں ادویہ کی عالمی کھپت2کھرب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔ اِس وقت عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں امریکا کا حصّہ 49فی صد ہے، جب کہ بھارت اور چین بھی نہایت تیزی سے اِس عالمی انڈسٹری میں اپنا مقام بنا رہے ہیں۔

اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں، جہاں کے لوگ ادویہ کی خریداری پر بہت زیادہ رقم صَرف کرتے ہیں۔ ان میں امریکا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جاپان، کوریا، یونان، فرانس اور دیگر ترقّی یافتہ ممالک شامل ہیں۔

اِن ممالک کے عوام کی فی کس آمدن بھی بہت زیادہ ہے اور علاج معالجے میں حکومت بھی معاونت کرتی ہے، لیکن پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں فی کس آمدنی بے حد کم ہونے کے باوجود، ادویہ کی فی کس خریداری بڑھ رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ60 فی صد سے زائد افراد علاج معالجے یا ادویہ کی خریداری پر اپنی جیب سے رقم صرف کرتے ہیں۔ 

سرکاری اسپتالوں میں بہت کم ادویہ دست یاب ہیں، جب کہ علاج معالجے کی دیگر سہولتیں بھی برائے نام ہیں، البتہ فائلز اور کاغذات کا پیٹ ضرور بھر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر طبّی سہولتوں کا انفرا اسسٹرکچر تقریباً ناکارہ ہو چُکا ہے۔ علاوہ ازیں، جعلی ادویہ اور کرپشن نے بھی سرکاری سطح پر طبّی سہولتوں کی فراہمی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ادویہ کی عالمی منڈی

پاکستان نہایت تیزی سے ادویہ کی عالمی منڈی بننے جارہا ہے۔ اِس صُورتِ حال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں طبّی سہولتوں کی فراہمی کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چُکا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں’’ایک انار، سو بیمار‘‘ والی صُورتِ حال ہے۔ ادویہ دست یاب نہیں ہوتیں اور ایک، ایک بیڈ پر کئی کئی مریض لیٹے ہوتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں طبّی سہولتوں کے فقدان کے باعث عوام کی اکثریت نجی کلینکس اور ڈاکٹرز سے رجوع کرنے پر مجبور ہے۔

صاحبِ حیثیت مریض، اسپیشلیسٹس سے رجوع کرتے ہیں، جن کی معاینہ فیس اب ہزاروں روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ مُلک میں جہاں جنرل پریکٹیشنرز کے پاس مریضوں کا رش لگا رہتا ہے، وہاں اسپیشلیسٹس سے وقت لینے میں بھی کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔ پاکستان میں ادویہ کے اندھا دھند اور بے دریغ استعمال کے پسِ پردہ کئی محرّکات کار فرما ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی 2025ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان اُن نمایاں ممالک میں شامل ہے، جہاں جنرل پریکٹیشنرز اور اسپیشلیسٹس ایک ہی مرض کے لیے اپنے نسخے میں اوسطاً تین سے زائد ادویہ تجویز کرتے ہیں، جب کہ بعض اسپیشلیسٹس تو چار ادویہ بھی لکھتے ہیں۔

جب کہ ترقّی یافتہ ممالک میں یہ شرح اوسطاً دو ادویہ ہے۔ دراصل، پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس ادویہ کا اندھا دھند استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مریضوں میں ان ادویہ کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے، جب یہ ادویہ اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ 

دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی مریض کسی جنرل پریکٹیشنر یا اسپشلسٹ کے کمرے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے نسخے پر دس، دس ادویہ لکھی ہوتی ہیں اور وہ پھر میڈیکل اسٹور سے ادویہ کا پلندہ لے کر ہی گھر جاتا ہے۔ ادویہ کے زاید استعمال کی ایک اور بڑی وجہ اسپشلیسٹس اور فارماسیوٹیکل کمپنیز کے درمیان خاموش انڈر اسٹینڈنگ بھی ہے، جس کے تحت وہ مخصوص برانڈ کی ادویہ تجویز کرتے ہیں، جس کے بدلے میں انہیں لاکھوں روپے کے تحائف اور غیر مُلکی دوروں کے ٹکٹس وغیرہ ملتے ہیں۔

پاکستان میں ادویہ کے بڑھتے استعمال کی تیسری بڑی وجہ ڈاکٹرز کے مشورے کے بغیر ازخود ادویہ کا استعمال ہے۔ اکثر لوگ محض دوسروں کے تجربات، مشوروں، ویڈیوز اور اشتہارات دیکھ کر ازخود میڈیکل اسٹورز سے ادویہ خریدتے ہیں۔ چوں کہ پاکستان میں ڈاکٹری نسخوں کے بغیر، بہت آسانی سے ادویہ مل جاتی ہیں، اِس لیے اُنہیں اپنے طور پر ادویہ خریدنے میں کوئی دقّت پیش نہیں آتی۔ 

اکثر افراد میڈیکل اسٹورز میں کھڑے سیلزمین کے مشورے پر بھی نزلہ، زکام، کھانسی، بدہضمی، سردرد، بلڈپریشر یا دیگر امراض کے لیے دوا خرید رہے ہوتے ہیں۔ اِن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں، جو ڈاکٹرز کے پاس جانے کی استطاعت نہیں رکھتے اور وہ لوگ بھی ہیں، جو علاج کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اپنا علاج کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

پاکستان کی40فی صد آبادی غربت کا شکار ہے اور اوسطاً آمدنی بھی خطّے میں سب سے کم ہے۔ ایسے میں اکثریت ایلوپیتھک ڈاکٹرز یا اسپیشلیسٹس سے رجوع نہیں کرتی۔ چنان چہ، یہ لوگ اتائیوں اور غیر رجسٹرڈ ڈاکٹرز، نیم حکیموں سے رجوع کرتے ہیں، جو اکثر انہیں سستی، غیر معیاری یا جعلی ادویہ تھما دیتے ہیں۔

ایک عالمی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں مریضوں کے لیے لکھے جانے والے نسخہ جات مریض سے زیادہ فارماسیوٹیکل کمپنیز کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اِن غیر ضروری ادویہ کی وجہ سے مریضوں کو سالانہ تقریباً35 ارب روپے کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ 

اِس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نسخوں میں تجویز کیے جانے والے اکثر انجیکشنزغیر ضروری ہوتے ہیں اور ایسے انجیکشنز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے سبب مریضوں میں اینٹی مائیکروبیل ریزیزٹینس Antimicrobial resistance (AMR) پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، مریض جب پانچ یا اس سے زیادہ ادویہ بیک وقت استعمال کرتے ہیں، تو اِس سے بھی اُن پر منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں، جسے’’پولی فارمیسی‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 

یوں پاکستان میں علاج معالجے پر اپنی جیب سے خرچ ہونے والی رقم کا بیش تر حصّہ غیر ضروری ادویہ خریدنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ماہرین نے ادویہ کے استعمال سے متعلق جو اعداد و شمار بیان کیے ہیں، وہ بھی ہوش رُبا ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان ادویہ کی خرید و فروخت کے ضمن میں ایشیا کی سب سے بڑی منڈی شمار ہونے لگا ہے، جہاں گزشتہ سال کے ابتدائی تین مہینوں میں ادویہ کی خریداری پر ایک کھرب سے زاید رقم خرچ کی گئی۔

تاہم، اِس خطیر رقم کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں ادویہ کی قیمتوں میں بڑا اضافہ بھی ہے، جس نے غریب مریضوں کو گھر کے برتن بھی فروخت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری بھی، جس کی مالیت 10 کھرب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے، مریضوں کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھا رہی ہے۔

یہاں کوئی بھی شخص ایک کمرے کی’’فیکٹری‘‘ میں کسی بھی مرض کی’’دوا‘‘ بنا کر اُسے مارکیٹ کرسکتا ہے، پروفیسر ڈاکٹر اظہر مسعود بھٹی

پاکستان میں ادویہ کے بڑھتے استعمال سے متعلق معروف نیوٹرشنیسٹ، پروفیسر ڈاکٹر اظہر مسعود بھٹی کہتے ہیں۔’’پاکستان میں اِس وقت 750فارماسیوٹیکل کمپنیز کام کررہی ہیں اور رجسٹرڈ ادویہ کی تعداد تقریباً70ہزار ہے، جن میں سے 10 سے 11 ہزار ادویہ مارکیٹ میں دست یاب ہیں۔ 

ایک سروے کے مطابق، مُلک کی تین چوتھائی آبادی کسی نہ کسی مرض کی گولیاں اور انجیکشنز استعمال کر رہی ہے۔ اِسی طرح عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، پاکستان میں نشہ آور ادویہ استعمال کرنے والوں کی تعداد70 لاکھ سے زائد ہے، جن کی عُمریں15 سے60 سال کے درمیان ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں کافی تعداد یونی ورسٹیز اور کالجز کے طلبہ کی بھی ہے۔

میرے نزدیک، پاکستان میں ادویہ کے زاید استعمال کی وجہ اتائیوں، نام نہاد حکیموں اور غیر رجسٹرڈ معالجین کے نسخہ جات ہیں۔ نیز، مُلک میں جعلی ادویہ تیار کرنے والی فیکٹریز کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے، جس سے مُلک میں ادویہ کا سیلاب آگیا ہے۔ صُورتِ حال یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص صرف ایک کمرے کی’’فیکٹری‘‘ میں کسی بھی مرض کی’’دوا‘‘ بنا کر اُسے مارکیٹ کرسکتا ہے۔

ہمارے مُلک میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے ادارے بھی اپنا کام درست طور پر نہیں کر رہے۔ ایک اندازے کے مطابق، مُلک میں 45 سے 50 ہزار غیر رجسٹرڈ ادویہ دست یاب ہیں، جن کے استعمال سے مریض صحت یاب ہونے کی بجائے، موذی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سو، پاکستان میں علاج معالجے کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائے بغیر صُورتِ حال بہتر نہیں ہوسکتی۔‘‘

ماہرین کے تجویز کردہ چند اقدامات

ماہرین نے پاکستان میں ادویہ کا استعمال کم کرنے کے ضمن میں کئی اقدامات تجویز کیے ہیں۔

٭ فارمیسی ایکٹ کا نفاذ، جس کے تحت بغیر ڈاکٹری نسخے، ادویہ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔

٭ عوام میں ادویہ کے اپنے طور پر استعمال کے نقصانات سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔

٭ ڈاکٹرز اور اسپیشلیسٹس سے بھی درخواست کی جائے کہ وہ نسخہ تجویز کرتے وقت ادویہ ساز کمپنی کی بجائے، مریضوں کا مفاد پیشِ نظر رکھیں۔

٭ نظامِ صحت میں بہتری لاتے ہوئے صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

٭ مُلک بَھر میں بنیادی صحت مراکز فعال کیے جائیں تاکہ عوام کو رہائش گاہوں کے نزدیک معیاری علاج میسّر آسکے۔ 

٭ درست تشخیص کے لیے جدید لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے، جہاں کے نرخ عام آدمی کی پہنچ میں ہوں کہ اِس وقت تو لیبارٹریز ٹیسٹ عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔

٭ تعلیمی اداروں میں صحت سے متعلق طلبا و طالبات کو بنیادی تعلیم دی جائے اور’’پرہیز، علاج سے بہتر ہے‘‘ کا شعور اُجاگر کیا جائے۔

٭ متبادل اور روایتی طریقۂ علاج کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ 

٭ ادویہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے انقلابی اقدامات کیے جائیں۔

سنڈے میگزین سے مزید