دانیال حسن چغتائی، لودھراں
ہمارے معاشرے میں جہیزکی رسم نےجو صُورت اختیار کرلی ہے، وہ بے شمار خرافات کی جڑ ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو دینی و دنیوی دونوں طرح کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اَن گنت لڑکیاں بغیر نکاح ہی کے بیٹھی رہ جاتی ہیں اور اگر نکاح ہو بھی جائے، تو جہیز میں کسی نہ کسی چیز کی کمی کی وجہ سے اُنہیں طرح طرح کے طعنوں تشنوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ بسا اوقات اُن سے جینے کا حق تک چھین لیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں جہیز میں کچھ ایسی قیمتی چیزیں ضروری سمجھی جانے لگی ہیں،جن کی عموماً ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی اور اس بدعت کے لیے بیشتر والدین کو سودی قرض کا سہارا لینا پڑتا ہے، نتیجتاً بےشمار مفاسد کا دروازہ کُھل جاتا ہے۔ اسلامی شریعت کی رُو سے بیوی کے تمام تر اخراجات کا ذمّےدار شوہر ہے اور بیوی کے لیے قطعاً ضروری نہیں کہ وہ نکاں کے وقت اپنے ساتھ ڈھیروں سامان لائے۔
بہترین شادی سے متعلق مصلحِ انسانیت، پیغمبرِاعظم حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’سب سے با برکت شادی وہ ہے، جس کا مالی بارکم تر ہو۔ (مشکوٰۃ جلد دوم، صفحہ 268) ہمیں اس بات پرغور کرنا ہوگا کہ کم جہیز یاجہیز نہ ہونے کے سبب خواتین کو لعنت ملامت کرنے کا رجحان کیوں کر فروغ پایا۔
لوگوں میں یہ حریصانہ طبیعت، ظالمانہ جرأت کیسے پیدا ہوئی، اس کے اسباب و عوامل کیا ہیں؟ مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ یہ حریصانہ مزاج حُبِّ دنیا کی پیداوار اور ظالمانہ جرأت دِین سے دُوری کا نتیجہ ہے، کیوں کہ جو شخص یہ جانتا ہوکہ دوسرے کے مال کی طمع اور اسے اپنا مال بنانے کی حرص ایک مذموم اور گھٹیا حرکت ہے، تو وہ کبھی بھی اپنی بیوی کے مال و دولت کا حریص نہیں ہوسکتا۔
اسلامی نقطۂ نظر سے جہیز کا تمام تر سامان بیوی کی ملکیت ہوتاہےاور اگر اُس پر زکوٰۃ فرض ہو، تواُس کی ادائی بھی بیوی ہی کی ذمّےداری ہوتی ہے۔ اگر کوئی دوسرا فرد یہ سامان استعمال کرنا چاہے، تو اس کے لیے بھی بیوی کی رضا مندی اور اجازت لازم ہے۔ اس کے برخلاف جن خاندانوں اور جوانوں میں یہ سوچ راسخ ہو چُکی ہے کہ دلہن کا سارا مال ہماری مِلک ہے اور ہم اُسے جیسے چاہیں استعمال کریں، تو اُن کی دِین اور اُس کے مقاصد سے دُوری عیاں ہے۔
سُنّتِ رسولﷺ اوراحکامِ اسلام کی رُو سے نکاح کے بعد مہر، نان نفقہ اور سکونت کے سارے معاملات و مصارف شوہر کے ذمّے ہوتے ہیں اور بیوی پر قطعاً یہ فرض یا واجب نہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے لائے، جب کہ لڑکی کے والدین پر صرف یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ وہ مناسب لڑکے سے اُس کا عقد کریں اور یہ اُن کی قطعاً ذمّےداری نہیں کہ لڑکے کو مال ودولت سے بھی سرفراز کریں یا اپنی لڑکی کو زیادہ سے زیادہ جہیز سے نوازیں بلکہ عقد تو وہ عمل ہے، جس کی وجہ سے لڑکی کے ذاتی مصارف کی ذمّے داری بھی شوہر کو منتقل ہوجاتی ہے، لیکن یہ عجب حرص و ہوس ہے کہ آج کا نوجوان اور اُس کا خاندان نکاح کے ذریعے اپنی ضروریات اور مصارف کی ذمّےداری بھی نادار و ناتواں لڑکی کے کاندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
جہیز میں بےشمار سامان، مال ودولت دینے کے مطالبے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض اہلِ ثروت محض نمودونمائش کی خاطر بیٹیوں کو بِلا مطالبہ اتنا جہیز دے دیتے ہیں کہ متوسّط طبقے کے افراد اپنی زندگی بَھر کی جمع پونجی اور اثاثے فروخت کرکے بھی اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، لیکن اپنی ناک اونچی رکھنےاور بیٹی کی خاطر اپنے آپ کو گروی تک رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
یہاں بعض ایسے اقدامات کا ذکر کیا جا رہا ہے، جن پرعمل درآمد سے جہیز کے لالچ و ہوَس کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے تومعاشرے میں اسلامی احکامات کی اہمیت و عظمت اجاگر کی جائے، آخرت کا خوف پیدا کیا جائے اور متاعِ دُنیا کی حرص اور ثوابِ آخرت سے بے نیازی دُور کی جائے۔
علاوہ ازیں، اس بات کو بھی لوگوں کے دِل ودماغ میں راسخ کیا جائے کہ مومن کی سُرخ رُوئی اور کام یابی اسی میں ہے کہ اللہ کی قائم کردہ حدود میں رہتے ہوئے جائز اور بہتر طریقے سے اپنی دُنیا بھی خوش حال بنائے اور آخرت بھی سنوارے۔
نیز، ہر قسم کی ناانصافی اور ظلم و ستم سے گریز کیا جائے، کیوں کہ اس کا انجام نہایت بھیانک ہوتا ہے۔ سو، منتقمِ حقیقی کی سزا سے کبھی غافل نہیں ہوناچاہیے۔ علاوہ ازیں، یہ ذہن نشین کروایا جائے کہ نکاح ایک پاکیزہ رشتہ ہے، جو نسلِ انسانی کی حفاظت و بقا اور انسان کے فطری جذبات کی مناسب تحدید کے لیے وضع ہوا ہے۔
اس رشتے کے بعد نہ صرف دو خاندانوں میں قرابت و محبت اور اتحاد ویگانگت پیدا ہوتی ہے بلکہ مَردوزن پر بہت سی ذمّے داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اسی طرح بالخصوص مَردوں میں غیرت وحمیت بےدارکی جائےکہ مَرد کی عزّت و وقار کا یہی تقاضا ہےکہ وہ صرف اپنی کمائی پر بھروسا کرے۔ بیوی کی دولت پر حریصانہ نظر رکھنا بہرطور ایک گھٹیا سوچ کی غمّازی ہے۔