اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد میں مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے میں شہادتوں کی تعداد 33ہو گئی، اب بھی کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، 14شہدا کی نماز جنازہ ترلائی کلاں میں ادا کر دی گئی، نمازِ جنازہ میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، وفاقی وزراء سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے بعدازاں شہدا کو آہوں اور سسکیوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال میں زیرعلاج عباس مہدی ہفتہ کو جاں بحق ہوگیا۔ اس طرح شہادتوں کی تعداد 33 ہوگئی۔ ہسپتال ذرائع کاکہناہے کہ دھماکے کے 33شہدا کی میتیں انکے لواحقین کے حوالےکردی گئی ہیں ، پمز ہسپتال میں دھماکے کے 149 کیسز لائے گئے تھے جن میں 121 افراد زخمی اور 28 لاشیں شامل ہیں، طبی امداد کی فراہمی کے بعد پمز میں زخمیوں کی تعداد 64 رہ گئی ، جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک اور 9 افراد آئی سی یو میں ہیںجبکہ پولی کلینک ہسپتال میں 13 زخمی زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والے 14 شہدا کی نماز جنازہ ادا کی گئی، شہدا کی نماز جنازہ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ ؓ ترلائی اور امام بارگاہ جامع صادق (جی 9) میں ادا کی گئیں، امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں 11 شہدا جبکہ امام بارگاہ جامع صادق میں 3 شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ،شہداء کی میتیں جب نمازجنازہ کیلئے لائی گئیں تو فضا رقت آمیز ہو گئی، ہر طرف آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی رہیں اور سوگوار اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔