لاہور(آصف محمود بٹ) لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، اقوام متحدہ کے نمائندوں، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے پاکستان اور خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال، آئینی ترامیم، عسکری عدالتوں کے کردار، افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور آزادیٔ اظہار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے آزادیٔ اجتماع و تنظیم سازی، گینا رومیررو نے انسانی حقوق کے کارکنوں ماہرنگ بلوچ، ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور ادریس خٹک کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو ملٹری کورٹس اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں پیش کرنا ایک خطرناک اور تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں حالیہ ترامیم اور بلوچستان و پنجاب میں نافذ اسی نوعیت کے قوانین من مانی گرفتاریوں، غیر انسانی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتے ہیں، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق افغانستان، رچرڈ بینیٹ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دو ملین سے زائد افغان شہریوں کو بے دخل کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اس وقت واپسی کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے اور اقوام متحدہ اس مؤقف پر بالکل واضح ہے کہ زبردستی واپسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔