• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ورکرز آوارہ کتوں کی زد میں آگئیں

کراچی (بابر علی اعوان) بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے گھر گھر پہنچنے والی پولیو ٹیمیں خود آوارہ کتوں کے حملوں کی زد میں آ گئیں۔ ہفتے کو کراچی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ورکر اور ان کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا جس نے شہر میں بڑھتے ڈاگ بائٹ اور ریبیز کے بحران کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک دن میں دو واقعات رپورٹ ہوئے، ملیر یوسی 8 بھٹائی آباد میں 27 سالہ خاتون پولیو ورکر پر کتے نے حملہ کیا جبکہ قائد آباد میں پولیو ورکرز کی سیکیورٹی پر مامور اکیس سالہ پولیس اہلکار عفان کو ٹانگ پر آوارہ کتے نے کاٹ لیا۔ اس سے دو روز قبل بھی زمان ٹاؤن میں 42 سالہ خاتون پولیو ورکر آوارہ کتے کے کاٹنے سے زخمی ہو گئی تھیں، زخمیوں کو فوری طور پر انڈس اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے زخم صاف کیے گئے اور انہیں اینٹی ریبیز ویکسین لگائی گئی۔ واضح رہے کہ سندھ بھر میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک صرف کراچی میں ہزاروں ڈاگ بائٹ کیسز جبکہ دو ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یاد رہے کہ آوارہ کتوں اور ریبیز کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت حال ہی میں دو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن میں ریبیز کنٹرول پروگرام کو مؤثر بنانے، ریبیز سینٹرز کی اپ گریڈیشن، ویکسین کی فراہمی اور آگاہی مہم شروع کرنے کے فیصلے کیے گئے، تاہم شہریوں اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر تاحال ان فیصلوں کے واضح نتائج نظر نہیں آ رہے۔ شہریوں اور طبی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیو ورکرز سمیت فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر ڈاگ کنٹرول اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر عوامی صحت سے متعلق قومی مہمات کو سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔
اہم خبریں سے مزید