• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صرف 20 روپے الزام میں 30 سال قید، بے گناہی ثابت ہونے کے اگلے ہی دن موت

کراچی (رفیق مانگٹ) صرف 20روپے کے الزام میں 30سال قید، بےگناہی ثابت ہونے کے اگلے ہی دن موت، انصاف کی تاخیر کی دل دہلا دینے والی داستان، 1996 سے 2026 تک معمولی الزام، طویل مقدمہ،22 سال اپیل زیرِ التوا، نظامِ انصاف کی سست رفتاری کا عبرتناک انجام، گواہوں کے تضادات، استغاثہ کی ناکامی، ہائیکورٹ نے آخرکار بابوبھائی کو بےگناہ قرار دے دیا، یہ کہانی کسی فلمی اسکرپٹ جیسی لگتی ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہے۔ بھارتی گجرات کے ایک پولیس اہلکار نے صرف 20 روپے رشوت کے الزام میں اپنی زندگی کے قیمتی 30 سال جیل اور عدالتی راہداریوں میں گزار دیے۔ بالآخر عدالت نے اسے بےگناہ قرار دیا، انصاف ملنے کے اگلے ہی دن اس کی موت ہو گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے شہر احمد آباد میں تعینات پولیس کانسٹیبل بابوبھائی پرجاپتی پر 1996 میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے 20 روپے رشوت لی ہے۔ 1997 میں سیشن کورٹ میں چارج شیٹ دائر ہوئی، جبکہ 2002 میں الزامات طے کیے گئے۔ 2003 میں گواہوں کے بیانات کا آغاز ہوا اور 2004 میں سیشن کورٹ نے بابوبھائی پرجاپتی کو قصوروار قرار دیتے ہوئے چار سال قید اور 3 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ بابوبھائی پرجاپتی نے اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، مگر ان کی اپیل اگلے 22 برس تک زیرِ التوا رہی۔ اس طویل انتظار نے ان کی پوری زندگی کو عدالتی نظام کی سست رفتاری کی نذر کر دیا۔
اہم خبریں سے مزید