اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر پرس پڑیں کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوام کو معلوم ہے کہ پارٹی میں غدار کون ہیں اور ہمیں بھی مکمل معلومات حاصل ہیں،جو بانی کے بیانیےکا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، مگر کیسز تک نہیں لگوا سکے، لطیف کھوسہ،علی ظفر اورحامد خان کہاں ہیں؟ نقوی سے رابطہ کرتے رہے ہمیں نہیں بتایا،عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، دوسری جانب پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 17 مرتبہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور 14 مرتبہ سپریم کورٹ جا چکے ہیں، رمضان المبارک میں بھی ہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سامنے کھڑے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں اور بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگائیں۔ تفصیلات کے مطابق علیمہ خان نے کہا ہے کہ اچھی طرح جانتے ہیں غدارکون ہے؟ رہنما بغیر بتائے فیصلےکر رہے ہیں۔بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی کارروائی یا فیصلے کیلئے میری مشاورت ضروری ہے۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی ہی سیاست میں سرگرم ہیں، اب ہم اپنے بھائی کیلئے کھل کر بات کریں گے اور محسن نقوی جو مرضی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اب اپنے بھائی کے لیے بولیں گے، ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پارٹی میں کیا ہو رہا ہے اور قیادت مکمل طور پر خاموش ہے، پارٹی کے وکلاء اور ممبرانِ اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ بانی کا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بانی نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کیخلاف بیان سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، چند افراد اگر بیان دیں تو اس سے پارٹی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہا کہ بانی نے وکلاء کو کئی بار کہا کہ کیسز لگائیں، لیکن چیئرمین،وکلاء اور ایم این اے کیسز تک نہیں لگوا سکے اور نہ نظر آتے ہیں۔علیمہ خان نے کہا کہ محسن نقوی کے بیان کا جواب نہیں دیا گیا اور وہ ہمیں قصور وار قرار دے رہے ہیں، سرکاری ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ڈاکٹرز موجود ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب پارٹی اس معاملے میں کچھ کرے، اس دن محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جا رہے ہیں، ہمیں محسن نقوی سے اپنے اہلِخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے؟علیمہ خان نے کہا کہ بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی کارروائی یا فیصلے کیلئے میری مشاورت ضروری ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں بھی ہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سامنے کھڑے ہیں، عدالت میں جو کیسز زیر سماعت ہیں ان کے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔بدھ کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے وکلاء ، اہلخانہ، ڈاکٹر کی ملاقات سے متعلق درخواست جمع کروائی ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ سے ممبران پارلیمنٹ نے رابطہ کیا اور درخواست دی، رجسٹرار نے کہا درخواست دے دیں، جو جمع کروا دی ہے، لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے، سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس پر جواب دیا کہ درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوگی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر اور توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہیں، ابھی تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئے۔