• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ٹیم میں آل راؤنڈر کی بھرمار، کوچ کی پالیسی پر سخت تنقید

کراچی (عبدالماجد بھٹی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا اور بابر اعظم سمیت بیٹنگ لائن بری طرح ناکام رہی جس کے باعث ٹیم ایک بار پھر مشکلات میں گھِر گئی ہے۔ سلمان علی آغا اور مائیک ہیسن کی سخت سلیکشن پالیسی کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا ، سیمی فائنل تک رسائی دشوار دکھائی دے رہی ہے۔ ماضی کے عظیم کھلاڑی وسیم اکرم نے شکوہ کیا کہ کھلاڑی مشورہ لینے نہیں آتے، کیا وہ خود ڈریسنگ روم کے باہر کھڑے ہوں؟ انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا ہے کہ فخر زمان جیسے بیٹر کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا جاتا۔ جنگ کی تحقیق کے مطابق ناقص حکمت عملی اور ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘‘ پالیسی کے تحت زائد آل راؤنڈرز کھلانے سے توازن متاثر ہوا۔ اوپنر صاحبزادہ فرحان نے 6 میچوں میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کے ساتھ 70.75 کی اوسط سے 283 رنز بنائے، وہ ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر ہیں۔بابر اعظم 6 میچوں میں 22 کی اوسط سے 91 رنز بنا سکے، زیادہ سے زیادہ اسکور 46 رہا۔ صائم ایوب نے 6 میچوں میں 70 رنز بنائے۔ سلمان علی آغا 12 کی اوسط سے 60 رنز تک محدود رہے۔ وکٹ کیپر عثمان خان 52 رنز بنا سکے۔ فہیم اشرف نے 5 میچوں میں 40 رنز بنائے، نیدرلینڈز کے خلاف 29 ناٹ آؤٹ اننگز فیصلہ کن ثابت ہوئی مگر انہیں باقاعدگی سے بولنگ نہ دی گئی۔

اسپورٹس سے مزید