• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موٹر سائیکل پہ ایم ٹیگ لگانے والے شہریوں کی لمبی قطاریں معمول بن گئی

اسلام آباد (عاطف شیرازی) جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ایم ٹیگ کے خلاف سوشل میڈیا پہ مہم زور پکڑ گئی ہے۔موٹر سائیکل پہ ایم ٹیگ لگانے والے شہریوں کی لمبی قطاریں معمول بن گئی ہیں ۔عملے کی کمی نے شہریوں کو خوار کر کے رکھ دیا ہے۔ حکومت نے اسلام آباد میں داخلے کے لیے موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی ایم ٹیگ لازمی قرار دے دیا ہے ۔ موٹر سائکل سواروں کے لیے فیض آباد کے قریب ٹیگ لگانے والے عارضی چبوترے قائم کیے گئے ہیں جہاں ٹیگ کے حصول کے لیے شہری صبح صبح ہی لائن میں لگنا شروع ہو جاتے ہیں اور افطاری سے قبل کچھ وقت پہلے تک لائن لگی رہتی ہے شہریوں نے کہا ہے کہ روزہ رکھ کر دن بھر ٹیگ لگوانے کے لیے لمبی قطار میں لگنا انتہائی تکلیف دہ اور دشوار عمل ہے یہ ہی وقت دفتر جانے کا ہوتا ہے جس کیوجہ سے دفتر پہنچنا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔شہریوں نے کہا ہے کہ اگر ٹیگ لگانا ضروری ہے تو کم از کم یہ جو ٹیگ لگانے کے لیے ٹین کے چبوترے رکھے گئے ہیں اس میں عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا پہ تو یہ مہم زور پکڑ گئی ہے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ٹیگ لگنے کا عمل جلد مکمل ہو اور دفاتر وقت پہ پہنچا جا سکے۔شہریوں نے کہا ہے کہ عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے ۔ ایسے میں ای ٹیگ عوام کی جیبوں پہ ڈاکا ہے ۔ حکومت ای ٹیگ کے فیصلے کو واپس لے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد سے مزید