کراچی (رفیق مانگٹ) رائے عامہ میں بڑی تبدیلی، امریکی عوام پہلی بار اسرائیلیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے زیادہ ہمدرد، دو دہائیوں بعد رجحان الٹ گیا، گیلپ سروے میں معلوم ہوا اسرائیل کے لیے امریکی ہمدردی 2004 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی، 41 فیصد امریکی فلسطینیوں کے حامی، ڈیموکریٹس میں واضح حمایت، ریپبلکنز میں اسرائیل کے لیے ہمدردی کم، آزاد ووٹرز کی ترجیح فلسطینیوں کے حق میں تبدیل، ٹرمپ حامیوں میں بھی اختلافات، امریکی پالیسی پر تنقید بڑھنے لگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق گیلپ کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ امریکی عوام میں پہلی مرتبہ فلسطینیوں کے لیے اسرائیلیوں کے مقابلے میں زیادہ ہمدردی سامنے آئی ہے، جو غزہ میں جنگ کے بعد بدلتی صورتحال اور سیاسی مباحث کے تناظر میں رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ 41 فیصد امریکیوں نے مشرقِ وسطیٰ تنازع میں فلسطینیوں سے زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ 36 فیصد نے اسرائیلیوں کے حق میں ہمدردی ظاہر کی۔ یہ تبدیلی دو عشروں سے زائد عرصے کے اس رجحان کے برعکس ہے جس میں امریکی عوام کی واضح اکثریت اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتی تھی۔ سروے کے مطابق 2001سے 2025تک اسرائیل کو امریکی ہمدردی میں مسلسل دو عددی برتری حاصل رہی۔