کراچی،لاڑکانہ( بیورو رپورٹ) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی پراکسی بن کر افغانستان کی حکومت پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا بند کرے، ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں کو تمام اختلافات بھلا کر ایک پیج پر آجانا چاہئے،پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے مقابلے میں سندھ کا بلدیاتی نظام زیادہ خودمختار اور موثر ثابت ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو بلاول ہاؤس سے جاری ایک بیان اور میئر لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن انور لوہر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوےئ کیا۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری سے امیر بخش خان بھٹو کی ملاقات کی جس میں سندھ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور باہمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گذشتہ روز افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا لیکن ہماری بہادر افواج نے انہیں بھرپور جواب دیا ہے ۔ وہ بھول گئے ہیں کہ ہماری بہادر افواج نے اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے دشمن بھارت کو کس طرح خاک چٹوا دی۔ بلدیاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے بلدیاتی نمائندے خدمت کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے لاڑکانہ تک ایک مخصوص سوچ کے عناصر کردار کشی کرتے رہتے ہیں لیکن انہیں جس طرح ماضی میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اسی طرح اب بھی ناکام ہونگے۔ مخصوص سوچ کے مالک کبھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی سندھ کے وسائل کو منفی انداز سے لیتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی قومی ، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر ان سازشوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔ افطار ڈنر میں نثار کھوڑو، جمیل سومرو، سہیل انور سیال اور دیگر قائدین کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کے اراکین اور ممتاز شخصیات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔