کراچی (بابر علی اعوان) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو ہنگامی مکتوب ارسال کرتے ہوئے ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر وفاقی سطح پر’’ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ‘‘منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایم اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ طبی برادری اس وقت قومی ایمرجنسی جیسی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور جو معالجین حلف لے کر جانیں بچاتے ہیں وہ آج اپنی ہی جانوں کے تحفظ کے لیے فریاد کر رہے ہیں۔ مکتوب میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2012 سے 2014 کے دوران کراچی میں 130 ڈاکٹروں کو قتل اور 150 کو اغوا کیا گیا، جبکہ ’سیف گارڈنگ ہیلتھ اِن کنفلکٹ کولیشن‘ کے مطابق 2023 سے 2024 کے درمیان صحت کے شعبے میں تشدد کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا اور اموات کی تعداد 3 سے بڑھ کر کم از کم 15 ہو گئی۔ خط میں ڈاکٹر مہوش کے قتل کو ریاستی ناکامی کی علامت قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی گئی کہ 2024 میں پولیو ٹیموں پر 25 ہدفی حملے بھی ہوئے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ایک جامع وفاقی قانون کے تحت ہسپتالوں کو “پروٹیکشن زون” قرار دے کر تربیت یافتہ سیکورٹی کی لازمی تعیناتی کی جائے، خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور طبی عملے پر حملے کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جائے۔ پی ایم اے کے مطابق اگر ریاست معالجین کی حفاظت یقینی نہ بنا سکی تو صحت کا نظام سنگین بحران کا شکار ہو جائے گا۔ مکتوب کی نقول صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔