پیرس (اے ایف پی) ایرانی سپریم لیڈر کا تقرر منتخب شدہ مجلس خبرگان کرتی ہے،یہ منتخب ادارہ 88؍ فقہا پر مشتمل ہے جنہیں ہر 8؍ سال بعد منتخب کیا جاتا ہے،مجلس خبرگان نے اب تک صرف ایک مرتبہ امام خمینی کے انتقال پر قیادت کی منتقلی دیکھی ہے، ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ فوری طور پر نئے سپریم لیڈر (رہبر اعلیٰ) کا تقرر کرے گا، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا نظام اپنے سب سے طاقتور منصب کو پر کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، 1979ء کے انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ کے قیام سے نافذ نظام میں تھیوکریسی اور جمہوریت کے عناصر یکجا ہیں، اور سپریم لیڈر کو اس نظام کی اعلیٰ ترین اتھارٹی سمجھا جاتا ہے۔ سپریم لیڈر کا انتخاب عوامی طور پر منتخب شدہ مجلسِ خبرگان کرتی ہے۔ سپریم لیڈر یہ عہدہ تاحیات عہدہ سنبھالتا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ سپریم لیڈر کا عہدہ اعلیٰ مذہبی ادارے کی نگرانی میں رہتا ہے، لیکن عملاً داخلی و خارجی پالیسیوں سمیت تمام معاملات میں حتمی اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہوتا ہے، اور وہ مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے۔ مجلسِ خبرگان 88؍ فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8؍ برس بعد کیا جاتا ہے۔