کراچی (رفیق مانگٹ)صدرڈونلڈٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی حکمت عملی کو ماضی کی عراق اور افغانستان جنگوں سے مختلف قرار دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے رجیم چینج کی کوشش خطے میں طویل عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔برطانوی اخبار میں کالم نگار گیڈین راچمن نے لکھا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حالیہ کارروائی ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں کم منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی دکھائی دیتی ہے۔افغانستان اور عراق میں امریکا نے زمینی افواج تعینات کر کے حکومتوں کا تختہ الٹاجبکہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ زمینی فوج بھیجنے سے گریزاں ہیں۔رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہم عسکری قیادت کی شہادت کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ایران میں اقتدار کی منتقلی کیسے ہوگی۔ ٹرمپ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے اور عوام کو حکومت سنبھالنے کا مشورہ دیا، تاہم اس حوالے سے کوئی عملی لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔