• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایندھن کے استعمال میں بچت کیلئے وفاقی حکومت کی جامع حکمت عملی تیار

انصار عباسی

اسلام آباد :…امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں وفاقی حکومت ایندھن کے استعمال میں بچت کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے، کیونکہ اس پیش رفت کے باعث پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے حوالے سے خدشات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 84؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ توانائی کی منڈی کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ تنازع مزید پھیلنے یا طویل ہونے کی صورت میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معاشی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اعلیٰ سرکاری حکام نے اس نمائندے کو بتایا کہ فوری اور درمیانی مدت کے اقدامات کو حتمی شکل دینے کیلئے جمعہ کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس کا مقصد پٹرولیم کے استعمال میں بچت کرنا اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنا ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات کو حتمی شکل دے کر پیر کو حکمت عملی کا اعلان کر دیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ مسئلہ ایندھن کی قلت کا نہیں بلکہ اس کے اخراجات برداشت کرنے اور مجموعی معاشی استحکام (میکرو اکنامک اسٹیبلٹی) کا ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہِ راست ملک کے درآمدی بل میں اضافہ کرتا ہے، جاری کھاتوں کے خسارے کو وسیع کرتا ہے اور روپے پر دباؤ ڈالتا ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، لہٰذا، پالیسی ساز بیرونی شعبے کے ایک نئے جھٹکے سے بچنے کیلئے محتاط اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ جن اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے ان میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں گھر سے کام کرنے کے طریقہ کار کی حوصلہ افزائی، مشترکہ سفری انتظام (کار پولنگ) کو فروغ دینا، غیر ضروری سرکاری سفر پر پابندی اور حکومتی اداروں میں ایندھن کے استعمال کا ازسرِنو جائزہ لینا شامل ہیں۔ توانائی کے تحفظ سے متعلق دیگر اقدامات بھی زیر غور ہیں جن میں بعض محکموں کے اوقاتِ کار میں کمی اور عوامی آگاہی مہمات بھی شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں ان اقدامات کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے صوبوں سے بھی مشاورت کی جا سکتی ہے۔ ذرائع نے خبردار کیا کہ تیل کی بلند قیمتیں نہ صرف پٹرولیم درآمدی بل میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ نقل و حمل اور بجلی کے اخراجات بڑھنے کے باعث اندرونِ ملک مہنگائی کو بھی ہوا دیتی ہیں۔ نتیجتاً مالیاتی نظم و نسق مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ممکن ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل یا اضافی سبسڈی جیسے اقدامات پر غور کرنا پڑے، جو سیاسی اور معاشی لحاظ سے نہایت حساس ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی بیرونی جھٹکوں کے ادوار میں ایندھن کی بچت کے اسی نوعیت کے اقدامات اختیار کر چکا ہے، جن میں حکومتی دفاتر کے کام کے دن کم کرنا اور سرکاری ایندھن کے استعمال کو محدود کرنا شامل ہیں۔ آئندہ ہونے والا اجلاس ایک واضح لائحۂ عمل کو حتمی شکل دینے کیلئے ہے جس میں معاشی احتیاط اور عوامی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ توقع ہے کہ حکومت عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شہریوں سے قومی مفاد میں رضاکارانہ طور پر ایندھن کے استعمال میں کمی کی اپیل بھی کر سکتی ہے۔ اگرچہ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوری طور پر رسد میں کوئی خلل نہیں، تاہم وہ اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ اصل چیلنج بڑھتے پٹرولیم درآمدی بل سے نمٹا ہے، جو بالآخر حکومت کے مالی وسائل اور عوام کی جیب دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید