• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیا نیب قانون، کم از کم بدعنوانی کی حد کو مہنگائی سے منسلک کردیا گیا

انصار عباسی

اسلام آباد :…ایک ایسے اقدام میں جس سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائرہ کار کو مزید محدود ہونے کا امکان ہے، پارلیمنٹ نے حال ہی میں اس کم از کم بدعنوانی کی رقم میں اضافہ کر دیا ہے جس پر بیورو کارروائی شروع کر سکتا ہے، اور موجودہ 50 کروڑ روپے کی حد کو مہنگائی سے منسلک کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیب چاہتا تھا کہ اس حد کو کم کر کے 30 کروڑ روپے کر دیا جائے، لیکن پارلیمنٹ نے اس کے برعکس قدم اٹھایا۔ یہ تبدیلی قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 میں ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جس کے مطابق 50 کروڑ روپے کی رقم کو “ہر مالی سال کے لیے یکم جولائی 2022 سے ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے شائع کردہ مہنگائی کے اشاریے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔” اس میں کہا گیا ہے: دفعہ 5 میں ترمیم، آرڈیننس نمبر اٹھارہ سنہ 1999۔ مذکورہ آرڈیننس میں، دفعہ 5 کی شق (6) میں لفظ “روپے” کے بعد کوما اور الفاظ “جسے ہر مالی سال کے لیے یکم جولائی 2022 سے ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے شائع کردہ مہنگائی کے اشاریے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جائے گا” شامل کیے جائیں گے۔ اس ترمیم کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے متنازع 50 کروڑ روپے کی حد جس سے کم بدعنوانی کے مقدمات پر نیب کارروائی نہیں کر سکتا مہنگائی کے مطابق ہر سال خودکار طور پر بڑھتی رہے گی، جس سے بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے لیے ادارے کے لیے معیار مزید بلند ہو جائے گا۔ ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ نیب نے اس کے برعکس حکومت اور پارلیمنٹ کو تجویز دی تھی کہ کم از کم حد کو 50 کروڑ روپے سے کم کر کے 30 کروڑ روپے کر دیا جائے تاکہ بیورو زیادہ بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی کر سکے، تاہم اس تجویز کو نظر انداز کر دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید