کراچی (رفیق مانگٹ) عالمی میڈیا کے مطابق نئی قیادت ایران کی سخت گیر پالیسیوں کے تسلسل کا اشارہ ہے۔ ایران میں خاندانی اقتدار کی واپسی؟ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری نے سیاسی نظام پر سوال اٹھا دیے، 2005 اور 2009 کے انتخابات میں کردار کے الزامات، مجتبیٰ خامنہ ای پہلے بھی تنازعات کا مرکز رہے، اصل طاقت اب بھی اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ میں رہنے کا امکان، ایرانی معاشرے میں تقسیم واضح، حامیوں کا جشن اور ناقدین کی مایوسی، تقرری امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام بھی ہو سکتی ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلی پر نیویارک ٹائمز، بلوم برگ، اکانومسٹ، بی بی سی، العربیہ سمیت عالمی میڈیا کی رپورٹس، ایران میں جاری جنگ کے دوران سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے ایران اور عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ ناقدین اسے اسلامی جمہوریہ میں خاندانی طرزِ اقتدار کی ممکنہ واپسی قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامی حلقے اسے بحران کے وقت تسلسل اور استحکام کی کوشش سمجھتے ہیں۔ ایرانی سیاسی نظام میں سپریم لیڈر کا منصب سب سے طاقتور عہدہ سمجھا جاتا ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای اس منصب پر فائز ہونے والے تیسرے رہنما ہیں۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں اور 1969 میں ایران کے اہم مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایسے دور میں ہوئی جب ان کے والد شاہِ ایران محمد رضا پہلوی کے خلاف مذہبی اور انقلابی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہونے لگے تھے۔ اکانومسٹ لکھتا ہےامریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران ایک ہفتے تک حیرت انگیز طور پر منظم انداز میں کام کرتا رہا۔ سابق سپریم لیڈر کی جانب سے 28 فروری کو ان کی شہادت سے پہلے دی گئی ہدایات کے مطابق تیاریاں جاری رہیں۔ مبصرین کے مطابق مجتبی اپنے والد کی طرح مکمل اختیارات رکھنے والے رہنما کے بجائے ممکنہ طور پر ایک علامتی شخصیت سمجھے جائیں گے، جبکہ اصل طاقت پاسدران انقلاب کے پاس ہے جو سب سے طاقتور ادارہ ہے۔ اس تقرری سے اصلاح پسند حلقوں میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے جو کسی مختلف قیادت کی امید کر رہے تھے۔ بہت سے مذہبی علما بھی اس فیصلے سے ناخوش ہو سکتے ہیں۔ مجلس خبرگان کو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کافی وقت لگا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسرائیلی حملوں میں قم شہر میں واقع اس کے دفتر کو نقصان پہنچا تھا جس سے اجلاس منعقد کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور قم میں اپنے مدرسے تک ایک پرانی ایرانی گاڑی پیکان میں جاتے تھے۔ اصلاح پسند حلقے انہیں سخت گیر شخصیت قرار دیتے ہیں ۔بعض مبصرین کا خیال تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای شاید سعودی ولی عہد کی طرح اصلاحات کی طرف جائیں گے، تاہم جنگ میں ان کے خاندان کے افراد کی ہلاکت کے بعد یہ توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کی حکمرانی سخت گیر پالیسیوں، انتقام اور اسرائیل و امریکا کے خلاف سخت موقف سے نمایاں ہو سکتی ہے۔