• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد سیف سٹی کیمروں پر سوالات، سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنیوں کے تیار کردہ، VIPs موومنٹ کیلئے خطرناک

اسلام آباد (ساجد چوہدری )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کے اجلاس میں سنیٹرز نے اسلام آباد کے سیف سٹی کیمروں پر سوالات اٹھا دیئے اور انہیں وی وی آئی پیز مومنٹ کیلئے خطرناک قرار دیدیا اور کہا کہ بہت سارے سافٹ ویئرز اسرائیل کے بنائے ہوئے ہیں، ڈی جی سیف سٹی نے کہا کہ سیف سٹی کیمرے محفوظ ہیں ،سیف سٹی پر سائبر حملے روکنے کیلئے فائر وال نصب ہے، وی وی آئی پیز مومنٹ کیلئے الگ پروٹوکولز ہوتے ہیں، ان پر عملدرآمد جاری ہے، کمیٹی نے اسلام آباد سیف سٹی میں انسٹال سافٹ ویئرز کی لسٹ مانگ لی اور اسلام آباد سیف سٹی کی تکنیکی ٹیم سے بریفنگ طلب کر لی،کمیٹی کے ممبران نے ایم ٹیگ لگانے پر تنقید کی ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ دنیا بھر میں موٹر سائیکلز کیلئے یہی طریقہ ہے،بدھ کو قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سنیٹر پلوشہ زئی خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ،تہران میں ٹریفک کیمروں کو اسرائیل کی جانب سے ہیک کرنے پر اسلام آباد کے سیف کیمروں کے سیکورٹی میکانزم کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا تو سنیٹر افنان اللہ نے کہا کہ بہت سارے سافٹ ویئرز اسرائیل کے بنائے ہوئے ہیں، وی وی آئی پیز مومنٹ کیلئے یہ خطرہ سنگین ہوسکتا ہے، فزیکل ہارڈ وئیر سسٹم لانا پڑے گا، کمپنیوں کا کہیں نہ کہیں لنک جاکر اسرائیل کے ساتھ بنتا ہے،سینیٹر طلحہ محمود نے کہا اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ 2009 میں شروع ہوا تھا، ابتدائی طور پر سیف سٹی کے 1300 سے زائد کیمرہ لگائے گئے تھے، بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ میں نے اس کمپنی کی تحقیقات کیں، تحقیقات میں پتہ چلا کہ کمپنی کا دفتر ترکیہ میں تھا لیکن وہ اسرائیلی تھی، میرے اجلاس میں سیکورٹی حکام نے مانا تھا کہ وزیر اعظم کی مانیٹرنگ ہو رہی تھی، ڈپلومیٹک انکلیو سے وزیر اعظم ہاؤس کی مانیٹرنگ ہوتی تھی، ڈپلومیٹک انکلیو سے کچھ ایسی ریز نکلتی تھیں جو وزیراعظم ہاؤس تک جاتی تھیں، ڈی جی سیف سٹی نے بتایا کہ اسلام آباد سیف سٹی بریف کیم سافٹ ویئر 2021 میں استعمال ہوا تھا، اس وقت جاپانی کمپنی نے اس سافٹ ویئر کو خرید لیا تھا، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کیا اس کا دفتر اسرائیل کے شہر ہائیفا میں نہیں تھا، ڈی آئی جی سیف سٹی نے کہا کہ کہا جارہا تھا اس کا سورس یہودی نے بنایا اس لئے اس پر اعتراض اٹھایا گیا، ڈی جی نیشنل سرٹ نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر ٹیکنالوجی باہر کی ہے، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اب تک کتنی کمپنیاں ہیں جن کو بلیک لسٹ کرکے نکالا گیا ، ڈی جی نیشنل سرٹ نے جواب میں بتایا کہ اب تک 15 سافٹ ویئر کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرکے نکالا گیا ، اجلاس میں موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے پر کمیٹی ممبران نے ضلعی انتظامیہ پر تنقید کی ، سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایم ٹیگ کو چوری کرکے کہیں بھی کوئی حملہ کرسکتا ہے، یہ تو آپ دہشتگردوں کو حملے کا کھلا راستہ دے رہے ہیں، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا لوگ لمبی لائنز میں کھڑے ہوگر ایم ٹیگ لگا رہے۔

اہم خبریں سے مزید