کراچی، تہران، دبئی (ایجنسیاں،نیوز ڈیسک) خارگ جزیرے پرایرانی فوجی اہداف پر بدترین امریکی حملے کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے ایران نے متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملہ کر دیا،جس سے فجیرہ کے تیل کے حب میں آگ لگ گئی ،ایران نے امارات کی بندرگاہوں کے قریب رہنے والوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت کر دی، ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ پر امریکی حملے میں تیل کی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا،بحرین سے ایران پر میزائل حملہ کیا گیا جبکہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور اسرائیل میں رہائشی علاقے کو میزائلوں سے سے نشانہ بنایا، حزب اللہ نے بھی صیہونی فوج پر راکٹ حملہ کیا، اصفہان میں فیکٹری پر حملے میں 15شہری شہید ہوگئے، جبکہ ایران نے بحرین میں امریکی ڈیفنس نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، عراق کے علاقے اربل میں ڈرون حملے کے بعد ریفائنری میں آگ گئی، عراقی کردستان میں امارات کے قونصل خانے پر ڈرون حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوج نے لوگوں کو ایرانی شہر تبریز کے صنعتی علاقے سے انخلا کا مشورہ دیا ہے، لبنان میں اسرائیلی حملے میں ڈاکٹرز اور نرسوں سمیت طبی عملے کے 12ارکان جاں بحق ہوگئے، ایران نے ترکی پر حملوں کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے، عرب میڈیا کے مطابق 15 روز میں حملوں کے دوران ایران میں 1444 افراد شہید ہوئے، امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کی ہے،لبنان میں اقوام متحدہ کے اڈے کو ’مشین گن‘ سے نشانہ بنایا گیا، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے دیگر ممالک مدد کریں، بیڑے بھیجیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ’کسی نہ کسی طرح‘ آبنائے ہرمز کو کھول لے گا،دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران کیخلاف کارروائی کو کامیاب قرار دے کر جنگ ختم کرے اور وہاں سے نکل جائے۔جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی،اسی دوران ایران اور امریکا نے جنگ بندی کو مسترد کر دیا،ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائیگا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پڑوسی مسلم ممالک مشرق وسطی سے امریکی فوج کو نکال دیں، متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہنا ہے کہ آج 9 بیلسٹک میزائل،33 ڈرونز مار گرائے، کویتی وزارتِ دفاع نے احمد الجابر ایئر بیس پر ڈرونز حملوں اور اسکے نتیجے میں تین فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، دریں اثناء معلوم ہوا کہ دو انڈین ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت عبور کرگئے۔ بتایا جاتا ہے بھارت اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعدٹینکرز کا محفوظ گزر ممکن ہوسکا، رات گئے اسرائیلی فوج کا دعویٰ کیا ہے ایران نے مزید میزائل داغے ہیں، تہران پر امریکا نے بی ٹی بمبار طیاروں سے بمباری کی۔ تفصیلات کے مطابق خارگ جزیرے پرایرانی فوجی اہداف پر امریکی حملے، تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی،تہران نے جواب میں دھمکی دی کہ خلیج میں امریکی یا اماراتی توانائی مراکز تباہ کر دینگے، امریکہ نے خارگ جزیرے پر 90 سے زائد ایرانی فوجی اہداف پر حملہ کیا، تیل تنصیبات محفوظ رہیں ،تہران نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے باوجود تیل برآمدات معمول کے مطابق ہیں۔ایران نےاماراتی بندرگاہی علاقے خالی کرنیکی ہدایت کی اورامریکی تعاون یافتہ توانائی تنصیبات کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنےکی دھمکی دی، ادھراسرائیل کا کہناہے ایران جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا،اس دوران صدرٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران مکمل شکست اور ڈیل چاہتا ہے، جو میں قبول نہیں کروں گا،انہوں نے دیگر ممالک سے ہرمز کی حفاظت کیلئے جہاز بھیجنے کا مطالبہ کیا، ٹرمپ کوان کے مشیر نے فتح کا اعلان کرکے ایران سے نکلنے کا مشورہ دے دیا۔دوسری جانب بغداد میں امریکی سفارتخانہ کوڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ۔یواےای کی فجیرہ پورٹ پر ڈرون حملے کے بعدتیل ہب میں آگ لگ گئی اور آئل لوڈنگ آپریشنز معطل ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران کے خارگ جزیرے پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی دھمکی دی، ہفتہ کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر 90 سے زائد ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں نیول مائن اسٹوریج، میزائل اسٹوریج بنکرز اور دیگر فوجی مقامات شامل تھے۔ جزیرے کی تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں، جبکہ ایران کے خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم میں "مکمل شکست" کھا چکا ہے اور ڈیل چاہتا ہے، مگر وہ خود ایسی ڈیل قبول نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "جعلی خبروں کی میڈیا یہ رپورٹ کرنا پسند نہیں کرتی کہ امریکہ کی فوج نے ایران کے خلاف کتنا بہتر کام کیا، جو مکمل شکست کھا چکا ہے اور ڈیل چاہتا ہے مگر ایسی ڈیل جو میں قبول نہیں کروں گا!"ٹرمپ کا کہنا تھا سعودی عرب کے اڈے پر حملے میں ہدف بننے والے زیادہ تر طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا۔ انہوں نے دیگر ممالک سے درخواست کی کہ وہ ہرمز کے تنگ گزرگاہ کی حفاظت کے لیے اپنے جہاز بھیجیں، جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی کے لیے ایک اہم چوکی نقطہ متاثر ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو ایران کی جانب سے ہرمز گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش سے متاثر ہوئے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ گزرگاہ کھلی اور محفوظ رہے۔امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر متاثرہ ممالک اس علاقے میں جہاز بھیجیں گے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کو کامیاب قرار دے کر جنگ ختم کرے اور وہاں سے نکل جائے۔ وائٹ ہاؤس کے ٹیک اور اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو فتح کا اعلان کر کے ایران سے نکل جانا چاہیے۔ڈیوڈ سیکس کا کہنا تھا کہ جنگ کو مزید بڑھانا تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے اور امریکا کو ایک لمبی جنگ میں پھنسا سکتا ہے۔ایران نے امریکی دھمکی کے جواب میں اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی امریکی یا امریکی تعاون یافتہ توانائی کمپنی کی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو وہ فوری طور پر انہیں تباہ کر دے گا اور "راکھ کے ڈھیر میں بدل دے گا"۔ ایران نے دبئی اور یو اے ای کے شہریوں کو بندرگاہوں، ڈاکس اور امریکی فوجی مقامات سے نکل جانے کی ہدایت کی اور مزید طاقتور ہتھیار استعمال کرنے کا عندیہ دیا۔ جمعہ اور ہفتہ کے دوران ایران نے خلیج میں 9 بیلسٹک میزائل اور 33 ڈرون داغے، جس سے ہرمز آبنائے میں بحری ٹریفک متاثر ہوئی اور فجیرہ میں تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل ہو گئی۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانہ ایک حملے میں نشانہ بنا، دھواں بلند ہوا اور دو ایران نواز گروپ کے ارکان مارے گئے۔گذشتہ روز یروشلم کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اس کے فوری بعد اسرائیلی فوج نے خبردار کیا کہ اسے ایران سے آنے والے میزائلوں کا پتہ چلا ہے۔لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 طبی عملے کے افراد شہید ہوئے۔ ایران میں بھی متعدد دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ لاکھوں شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے۔ امریکی افواج نے بھی جانی نقصان اٹھایا، جن میں عراق میں گرنے والے ریفولنگ طیارے کے تمام چھ عملے کے افراد شامل ہیں۔اس دوران ایران نے خارگ جزیرے پر حملے کے باوجود اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ایران نے ہرمز آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دی اور عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھایا۔ سعودی عرب نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا جبکہ قطر نے دو میزائلوں کو تباہ کیا۔ اسرائیل نے ایران نواز گروپوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے، اور ایران نے جواب میں کم از کم 1,600 ڈرونز، 294 بیلسٹک اور 15 کروز میزائل داغے ہیں۔علاقائی کشیدگی نے توانائی کی مارکیٹوں کو بھی متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز کے بعد 40 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ عالمی معیشت کو توانائی کی سپلائی میں خطرات اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خدشات کا سامنا ہے۔